رسائی کے لنکس

داعش سے متعلق پاکستان و افغانستان کو چوکس رہنے کی ضرورت


پاکستان میں داعش سے مبینہ تعلق پر گرفتار کیے گئے افراد (فائل فوٹو)
پاکستان میں داعش سے مبینہ تعلق پر گرفتار کیے گئے افراد (فائل فوٹو)

شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی خبریں تو منظر عام پر آئی ہیں لیکن ان کی آزاد ذرائع تصدیق ہونا ابھی باقی ہے جب کہ امریکی محکمہ دفاع نے ان خبروں کی توثیق تو نہیں کی لیکن اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ درست ہوں۔

تین سال قبل عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضے کے بعد اس تنظیم نے اپنا دائرہ کار بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر میں خاص طور پر نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف راغب کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیا جب کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں اس کے شدت پسندوں کی موجودگی بھی خطے کے لیے ایک نئے خطرے کے طور پر سامنے آئی۔

گزشتہ دو سالوں میں افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے مختلف مہلک دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری اس شدت پسند تنظیم کی طرف سے قبول کرنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا رہا۔

مشرقی افغانستان میں داعش خراسان نے اپنے مضبوط ٹھکانے بنائے جن کے خلاف امریکی فورسز افغان فوج کے ساتھ مل کر کارروائی کر چکی ہے۔

دیوار پر داعش کے حق میں لکھی گئی تحریر (فائل فوٹو)
دیوار پر داعش کے حق میں لکھی گئی تحریر (فائل فوٹو)

پاکستانی عہدیدار اپنے ملک میں داعش کی منظم موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے کہتے آئے ہیں کہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لوگ اس تنظیم سے وابستگی یا اس کا نام استعمال کر کے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے مبینہ طور پر داعش کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے والے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ سرحد پار افغانستان میں داعش کی موجودگی پر انھیں تشویش ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش کے سربراہ کے مارے جانے کی خبریں اس خطے میں موجود اس تنظیم کے وفاداروں کے لیے ایک عارضی دھچکہ تو ہو سکتی ہیں لیکن اس سے دہشت گردی کا خطرہ کم ہونے کا امکان بظاہر نظر نہیں آتا۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے میں اگر صداقت ہے تو اس سے شدت پسندوں کا حوصلہ پست ہوتا ہے لیکن یہ زیادہ دیر پا ثابت نہیں ہوتا۔

"یہ ضرور ہے کہ کچھ عرصے کے لیے حوصلہ کافی نیچے آ جاتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر یہ تفریق شروع ہوگئی نئی قیادت کے لیے تنظیم میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے اور تنظیم منقسم ہو جاتی ہے تو یہی دہشت گرد یا تو القاعدہ میں یا بھی تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہو سکتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں پاکستان اور افغانستان دونوں ہی کو محتاط رہنا پڑے گا اور دونوں کو اس جانب توجہ مرکوز رکھنی پڑے گی کہ داعش جیسی خطرناک تنظیم کے سربراہ کے مرنے کی صورت میں یہ یہاں کس انداز میں خود کو منظم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG