رسائی کے لنکس

logo-print

روپے کی قدر میں مسلسل کمی، کرونا میں گھری معیشت کے لیے نیا چیلنج؟


US dollar

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھی لیکن اس وبا کے غیر معمولی سماجی اور اقتصادی اثرات کی وجہ سے پاکستان معیشت کو اس وقت شدید کساد بازاری کا سامنا ہے۔

اقتصادی اُمور کے ماہر اور پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقتصادی اعشاریے کسی طور حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرضوں کی واپسی اور تجارتی خسارے میں کمی کے لیے 15 سے 16 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند روز سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ فاریکس مارکیٹ میں ایک ڈالر 168 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اپریل میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں صنعتی شعبے کی پیداوار میں 40 فی صد کمی واقع ہوئی جبکہ ملک میں تیل کی کھپت میں 25 سے 30 فی صد کمی ہوئی ہے۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حفیظ پاشا نے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ملک میں 70 لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار تھے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ گھرانے خطے غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔

حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ حکومت نے ملک کو درپیش اقتصادی مشکلات سے نمٹنے اور اقتصادی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے۔ تاہم ان کے بقول ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے لیے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈ میں اضافہ کرنا ہو گا۔

متوقع سعودی سرمایہ کاری پاکستانی معیشت کے لئے اہم ہو گی
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:48 0:00

حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 13.25 فی صد سے کم کر کے آٹھ فی صد پر لانا اچھا اقدام ہے۔

ان کے بقول یہ ایک اچھا فیصلہ تھا اس کی وجہ سے نہ صرف حکومت کے سود کی واپسی کے خرچے بھی کم ہو گے اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو گا۔

حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری طور پر 1.4 ارب ڈالر کی سہولت فراہم کی تاہم ان کے بقول یہ کافی نہیں ہو گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اپنی برآمدات کو بڑھانے کے لیے برآمدی شعبے کو مزید مراعات دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ایسے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے ہوں گے تاکہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔

حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک نے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کی مدد میں کچھ سہولت دی ہے اور پاکستان اس مدد میں مزید سہولت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کے بقول اگرچہ یہ سہولت اہم ہے لیکن اس کے منفی اور مثبت دونوں پہلو ہیں۔

حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ پاکستان کو مجموعی طور پر دو اڑھائی ارب ڈالر کے قرضوں کی مدد میں سہولت ملی ہے۔ لیکن ان کے بقول یہ کافی نہیں ہے۔

دوسری طرف اقتصادی امور کے ماہر اور پاکستان کے وزیراعظم کے اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن عابد سلہری کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے کئی ملکوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

عابد سلہری کہتے ہیں کہ پاکستان کا اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں پر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ قرضے صحتِ عامہ کی سہولتوں اور دیگر قدرتی آفات پر درست انداز میں خرچ ہوئے تو اس کا پاکستان کو آنے والے سالوں میں فائدہ ہو گا۔

ان کے بقول اگر قرضے لے کر حکومت نے اسٹیل مل یا خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں یا توانائی کے لیے گردشی قرضوں کی ادائیگی کرنے پر صرف کیے تو اسے پاکستانی معیشت کا نقصان ہو گا۔

عابد سلہری کہتے ہیں کہ اگر قرضے لے کر احساس پروگرام کی فنڈنگ بھی بڑھا دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل پاکستان کی حکومت نے 70 کھرب ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کیا تھا۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ کرونا کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو تین ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG