رسائی کے لنکس

اداکاری کو محبت اور پھر عشق بنا لیا۔ عمران اشرف


اداکار عمران اشرف

عمران نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا کہ انہوں نے کبھی کسی کردار کو آسان نہیں سمجھا۔  ہر کردار کو ایک چیلنج سمجھ کر کیا اور آج بھی ہر روز سیٹ پر جاتے ہوئے ڈر تا ہوں۔

سعدیہ اسد

بہترین اداکارانہ صلاحیتوں اور بے ساختہ انداز کے حامل اداکار عمران اشرف ، ٹیلی وژن ناظرین کے لیے ایک جانا پہچانا نام بن چکے ہیں ۔انہوں نے شہراجنبی، کالا جادو، فالتو لڑکی، بدگمان، جھوٹ،آبرو،چھوٹی سی غلط فہمی اور گل رعنا سمیت متعدد ڈراموں میں حقیقت سے قریب اداکاری کر کے مختصر عرصے میں خود کو منوایا ہے۔ وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں عمران اشرف نےبتایا کہ وہ پشاور میں پیدا ہوئے ،ایبٹ آباد میں تعلیم حاصل کی ، لاہور میں بھی رہے، لیکن زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزرا۔

عمران اشرف کا کہنا تھا انہوں نے ایک ٹیلی فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام کیا تھا ۔ کئی برسوں بعد اسی ہدائتکار کا فون آیا کہ اب کتنے بڑے ہو گئے ہو؟ اپنی تصویریں بھیجو کرو اور آ کر آڈیشن دے جاؤ۔ میں آڈیشن میں تو پاس ہو گیا لیکن اس ٹیلی فلم میں بقول عمران اتنی خراب کارکردگی دکھائی کہ ہر طرف سے تنقید کی گئی۔ تب میں نے ایک بات سوچی کہ اب ان لوگوں کو نہیں مجھے خود کو دکھانا ہے کہ میں کیا کر سکتا ہوں اور پھر خود کو دیے گئے اس چیلنج کو میں نے پہلے لگن ،پھر محبت اور پھر عشق بنا لیا اور ہر احساس کو خود پر طاری کر کے ہر کردار میں گویا ضم ہو کر اسے نبھاتا گیا۔ اور پھر وہ لڑکا جسے گھر والے بھی ایک کھوٹا سکہ ہی سمجھتے تھے آج کم از کم اس مقام تک پہنچ گیا ہے جہاں پر گھر والوں سمیت بے شمار پیار کرنے والے پرستار بھی موجود ہیں۔

عمران نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا کہ انہوں نے کبھی کسی کردار کو آسان نہیں سمجھا۔ ہر کردار کو ایک چیلنج سمجھ کر کیا اور آج بھی ہر روز سیٹ پر جاتے ہوئے ڈر تا ہوں ،کیونکہ بقول ان کے آپ کبھی بھی اداکاری میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب سب کچھ آ گیا ہے۔ اب کچھ مشکل نہیں رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے اب تک نبھائے گئے کرداروں میں ’’ گل رعنا ‘‘ میں اشعر کا کردار عمران اشرف کے زیادہ قریب ہے اسی لیے وہ کردار کرنے میں اتنی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

وہ کہتے ہیں کہ اداکاری کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آپ کو ہر کردار میں خود کو مکمل طورپر ڈھالنا پڑتا ہے۔ تبھی آپ حقیقی اور سچی اداکاری کر سکتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے آپ کو ہر لمحہ اپنے آپ کی نفی کرنا پڑتی ہے اور اپنی روح پر جبر کرنا پڑتا ہے۔

فلموں میں کام کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اداکار تو اداکار ہوتا ہے لہذا انہیں اگر فلموں سے اچھی پیشکش ہوئی تو ضرور غور کریں گے ۔نئے پراجیکٹس میں وہ ہم ٹی۔وی کے ایک ڈرامے میں ایک خواجہ سرا اور اے۔آر۔وائے کے ایک ڈرامے میں ایک پینٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG