رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان تاریخ کی بہترین ورلڈ کپ الیون کے کپتان


فائل

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ، ’اِی ایس پی این‘ نے کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ کی بہترین ورلڈ الیون کا انتخاب کیا ہے، جس میں پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم اور 1992 ورلڈ کپ کی فاتح پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان اور ماضی کے عظیم لیفٹ آرم تیز بالر وسیم اکرم بھی شامل ہیں۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اُس نے اپنے عملے کے 22 ارکان کو انفرادی طور پر اپنی اپنی ورلڈ کپ الیون منتخب کرنے کیلئے کہا اور پھر اُن 22 ٹیموں میں سے کرکٹ کی تاریخ کی حتمی ورلڈ الیون کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اگرچہ دس کھلاڑیوں کے نام مشترکہ طور پر کم سے کم 11 ارکان کی ورلڈ الیون میں شامل تھے، وسیم اکرم واحد کرکٹر ہیں جن کا انتخاب متفقہ طور پر کیا گیا۔

عمران خان کی کپتانی میں تشکیل دی گئی اس ورلڈ کپ الیون میں کھلاڑیوں کا انتخاب کچھ یوں رہا:

ایڈم گلکرائسٹ (اوپنر اور وکٹ کیپر)

آسٹریلیا کے سابق وکٹ کیپر ایڈم گلکرائسٹ جارحانہ انداز کے وکٹ کیپر بیٹسمین کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔ وہ آسٹریلیا کی طرف سے تین بار ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ اپنے تیسرے اور آخری ورلڈ کپ کے فائنل میں اُنہوں نے 149 رنز بنا کر اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

گلکرائسٹ نے اپنے کیریئر میں ورلڈ کپ میچ کھیل کر 98.01 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ 1085 رنز بنائے۔ اُن کی اوسط 36.16 رہی۔ اُنہوں نے وکٹ کیپر کی حیثیت سے 52 کیچ پکڑے۔

سچن ٹنڈلکر (اوپنر)

بھارت کے سابق عظیم بلے باز سچن ٹنڈلکر کو دوسرے اوپنر کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے بھی چھ ورلڈ کپ ٹورنمنٹس میں بھارتی ٹیم کیلئے اوپن کیا جو ایک ریکارڈ ہے۔ 1996 اور 2003 کے ورلڈ کپ میں وہ سب سے زیادہ سکور کرنے والے بیٹسمین رہے جبکہ 2011 کے ورلڈ کپ میں وہ مجموعی سکور کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ ٹنڈلکر نے اپنے کیریئر میں کل 45 ورلڈ کپ میچ کھیلے اور 88.98 کے سٹرائک ریٹ اور 56.95 کی اوسط کے ساتھ 2278 رنز بنائے جس میں 6 سنچریاں اور 15 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

رکی پونٹنگ

آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ ورلڈ کپ میچوں میں آسٹریلیا کے مسلسل 34 میچوں میں جیت کا حصہ رہے۔ انہی 34 میچوں میں فتوحات کے دوران آسٹریلیا کی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتنے کی ہیٹرک مکمل کی تھی۔ رکی پونٹنگ کی بہترین کارکردگی 2003 میں کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل میں تھی جب اُنہوں نے بغیر آؤٹ ہوئے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 140 رنز بنائے۔ وہ آؤٹ فیلڈ میں بہترین کیچ پکڑنے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے تھے۔

اُنہوں نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر میں کل 46 ون ڈے میچ کھیلے، جن میں اُنہوں نے 45.86 کی اوسط سے 1743 رنز بنائے۔ اُن کا سٹرائک ریٹ 79.95 رہا۔ اُنہوں نے کل پانچ سنچریاں اور چھ نصف سنچریاں بنائیں۔

ویوین رچرڈز

ویسٹ انڈیز کے عظیم کھلاڑی ویوین رچرڈز زوردار بیٹنگ کے حوالے سے اپنی منفرد پہچان رکھتے تھے۔ اُنہیں 2015 میں تاریخ کا بہترین ون ڈے کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ اُن کی شاندار کارکردگی کے باعث ویسٹ انڈیز کی ٹیم دو مرتبہ ورلڈ کپ جیتی۔ وہ شاندار فیلڈنگ کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔

ویوین رچرڈز نے کل 23 ورلڈ کپ میچ کھیلے جن میں اُنہوں نے 63.31 کی اوسط اور 85.05 کے سٹرائک ریٹ کے ساتھ 1013 رنز بنائے جن میں تین سنچریاں اور پانچ نصف سنچریاں شامل ہیں۔

5 ۔ کمار سنگا کارا

سری لنکا کے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے معروف وکٹ کیپر بیٹسمین کمار سنگا کارا نے2015 میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے چار مسلسل میچوں میں سنچری بنائی جو آج بھی ورلڈ کپ کا ریکارڈ ہے۔ اگرچہ سنگا کارا وکٹ کیپر بیٹسمین کے طور پر شہرت رکھتے ہیں، اس ورلڈ الیون میں وکٹ کیپر کیلئے پہلے انتخاب کے طور پر ایڈم گلکرائسٹ کو رکھا گیا ہے۔

سنگا کارا نے اپنے کیریئر میں کل 37 ورلڈ کپ میچ کھیل کر 1532 رنز بنائے۔ اُن کی اوسط 56.74 اور سٹرائک ریٹ 86.55 رہا۔ اُن کے ورلڈ کپ کیرئر میں کل پانچ سنچریاں اور سات نصف سنچریاں شامل ہیں۔

6.عمران خان (کپتان)

پاکستان کے آل راؤنڈر عمران خان 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے۔ اُنہوں نے 28 ورلڈ کپ میچ کھیل کر 35.05 کی اوسط سے 666 رنز بنائے۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے 19.26 کی اوسط سے 34 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے اُنہیں اس ورلڈ الیون کا کپتان بھی منتخب کیا گیا ہے۔

8 ۔ لانس کلوسنر

جنوبی افریقہ کے سابق آل راؤنڈر لانس کلوسنر کو 1999 کے ورلڈ کپ میں اُن کی شاندار کارکردگی کی بنا پر منتخب کیا گیا۔ وہ جارحانہ بیٹنگ اور فاسٹ میڈیم سونگ بالنگ کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے ورلڈ کپ کے 14 میچ کھیل کر 124 کی اوسط سے 372 بنائے اور 22 وکٹیں حاصل کیں۔

9 ۔ وسیم اکرم

پاکستان کے وسیم اکرم اپنے عہد کے بہترین لیفٹ آرم بالر مانے جاتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ وہ کرکٹ کے تاریخ کے بائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے بہترین فاسٹ بالر ہیں۔ 1992 کے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی جیت میں اُنہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اپنے ورلڈ کپ کیریئر میں وسیم اکرم نے 38 میچ کھیلے اور 4.04 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ اُنہوں نے 55 وکٹیں حاصل کیں۔ اُنہوں نے ورلڈ کپ میچوں میں ایک مرتبہ پانچ اور دو مرتبہ چار وکٹیں حاصل کیں۔

10 ۔ شین وارن

آسٹریلیا کے سپن شین وارن نے متعدد ورلڈ کپ میچوں میں اپنی خطرناک سپن بالنگ کا جادو جگایا۔ وہ 1996 اور 1999 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل اور پھر 1999 ہی کے فائنل میں اپنی شاندار بالنگ کے باعث ’مین آف دی میچ‘ قرار دئے گئے۔ اُنہوں نے کل 38 ورلڈ کپ میچوں میں 19.5 کی اوسط سے 17 وکٹیں حاصل کیں۔

11 ۔ گلین میک گرا

آسٹریلیا کے فاسٹ بالر گلین میک گرا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بالر ہیں۔ اُنہوں نے 2007 کے ورلڈ کپ میں ’مین آف دا ٹورنمنٹ‘ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ میک گرا نے کل 39 ورلڈ کپ میچوں میں 18.19 کی اوسط سے 71 وکٹیں حاصل کیں۔

12 ۔ متیا مرلی دھرن

سری لنکا کے مرلی دھرن نے 1996 کے ورلڈ کپ فائنل میں سری لنکا کی جیت میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ 2003،2007 اور 2011 کے ورلڈ کپ میں بھی اپنی نپی تلی بالنگ سے مخالف ٹیموں کے بیٹسمینوں کو مسلسل پریشان کرتے رہے۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ تاریخ کی اس بہترین ورلڈ کپ الیون کے انتخاب میں کچھ کھلاڑیوں کو نظر انداز کر دیا گیا جن کی ورلڈ کپ میں کارکردگی کسی بھی کھلاڑی سے کم نہیں تھی۔ وہ اے۔ بی۔ ڈویلئر، سٹیو وا، جے سوریا اور کپل دیو جیسے کھلاڑیوں کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG