رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں ایک اور جوہری بجلی گھر کا افتتاح، ایٹمی توانائی پر اس قدر انحصار کیوں کیا جا رہا ہے؟


فائل فوٹو

پاکستان میں چین کے تعاون سے جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے ایک اور یونٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ قومی گرڈ کو 1100 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے لیے تیار کیے گئے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-ٹو کی تعمیر سات سال میں مکمل ہوئی ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترجمان کے مطابق یہ جدید ترین نوعیت کا تھرڈ جنریشن نیو کلیئر پاور پلانٹ ہے جو حفاظت کے اعلیٰ ترین انتظامات سے لیس ہے۔ اس میں داخلی اور خارجی تحفظ اور حادثات سے بچاؤ کے علاوہ، بقول ترجمان، ایمرجنسی کی صورت میں تحفظ اور تدارک کی جدید ترین صلاحیتیں شامل ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پلانٹ کی آپریشنل مدت 60 سال ہے جسے مزید بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس پلانٹ سے صاف توانائی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔

ان کے بقول، موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ سے بچاؤ میں یہ جوہری پلانٹ پاکستان کے لیے اہم ہے، جب کہ اس سے ملک میں افرادی قوت کو تربیت اور ٹیکنالوجی کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔

کیا ایٹمی توانائی واقعی صاف ہے؟

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ طبعیات میں نیوکلیئر فزکس کی تدریس سے وابستہ رہنے والے ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اب تک جو آلودگی پھیلی ہے اس کی بنیاد کاربن ہے۔ یہ مضر (یعنی گرین ہاؤس) گیسز کے اخراج سے پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے اوزون کہ تہہ کو نقصان پہنچا اور نتیجے کے طور پر عالمی درجۂ حرارت میں بھی اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ایٹم سے حاصل کردہ توانائی میں چوں کہ کاربن کا عمل دخل نہیں ہوتا تو اسے صاف اور ماحول دوست قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں اس سے تابکاری کا اخراج ہو جائے تو اس سے ہونے والے نقصان کے ازالے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس میں رسک بہت زیادہ ہے اور غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔

ایک اور نامور نیوکلیئر فزکس کے استاد اور سرگرم سماجی کارکن پرویز ہودبھائے کا کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی سے حاصل کی جانے والی بجلی اتنی بھی صاف نہیں ہے، کیوں کہ اول تو یہ خطرناک ہے، جیسا کہ جاپان کے فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر کے حادثے نے ثابت کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاپان میں ہونے والے حادثے کو اگرچہ 10 سال کا عرصہ ہو چکا ہے، اس کے باوجود اب تک وہاں سے تابکاری کا اخراج جاری ہے۔ اس تابکاری سے اس قدر زیادہ پانی آلودہ ہو چکا ہے کہ اس سے سمندری مخلوق کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس سے قبل روس کے چرنوبل ایٹمی پلانٹ میں ہونے والا حادثہ اس سے بھی بڑا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ غیر معمولی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے دنیا میں بجلی کی پیداوار کے جوہری پلانٹس کا استعمال محدود ہو رہا ہے۔

پاکستان نئے ایٹمی بجلی گھر کیوں لگا رہا ہے؟

ڈاکٹر اے ایچ نیئر کے مطابق، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس میں ہزاروں سائنس دان کام کرتے ہیں جس کا بہت بڑا بجٹ ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے توقعات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں، جب کہ ملک میں سول اور دفاعی نیوکلئیر پروگرام اب تک ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکام یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ایٹمی توانائی کا حصول اب ترک کر دینا چاہیے، کیوں کہ، ان کے خیال میں، دنیا کے بہت سے ممالک مثال کے طور پر چین میں اب بھی اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

ڈاکٹر پرویز ہودبھائے کے خیال میں ملک میں بجلی پہلے ہی طلب سے زیادہ پیدا ہو رہی ہے اور ایسی صورت حال میں حکومت کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ نئے جوہری پلانٹس نہ لگائے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ان کی تنصیب میں دکھائی دینے والی تیزی میں اب کمی آئی ہے۔

پرویز ہودبھائے کا مزید کہنا ہے کہ دنیا میں بہت زیادہ حفاظتی انتظامات مطلوب ہونے کی وجہ سے جوہری توانائی کے رحجان میں کمی آ رہی ہے، جب کہ اس کے ساتھ توانائی کے قابل تجدید ذرائع زیادہ سستے ہونے کے باعث جوہری توانائی کی وقعت کم ہوئی ہے۔

’ساحل پر ایٹمی بجلی گھر خطرے سے خالی نہیں‘

ڈاکٹر پرویز ہودبھائے کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 30 سال سے ساحل پر ایٹمی بجلی کے خطرات سے متعلق آواز اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ کہا جا رہا تھا کہ کراچی ایٹمی بجلی گھر یعنی ’کینپ ون‘ شہر سے دور ہے لیکن اب تو شہر کی آبادی وہاں تک جا پہنچی ہے۔ وہاں تاب کاری، دہشت گردی یا کوئی ناخوشگوار واقعہ ہونے کی صورت میں کراچی کی آبادی کو کیسے بچایا جا سکے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ جاپان میں 2011 میں زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی پاور پلانٹ کے حادثے کے بعد اس کی قریبی آبادی کو خالی کرا دیا گیا تھا، لیکن کراچی میں تو یہ ممکن ہی نہیں۔

ادھر ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا ہے کہ حادثے سے ایک سال قبل ہی فوکو شیما ایٹمی بجلی گھر کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے نے محفوظ ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہاں حادثہ ہوا جس کے بعد چھ سال بعد تک جاپان کو اپنے تمام تین درجن سے زائد ایٹمی ری ایکٹرز بند رکھنے پڑے، جب کہ اب بھی وہاں سے تابکاری کے اخراج پر سمندر کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہمارے ہاں اگر کوئی ایسا حادثہ ہوا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ عالمی معیار کے مطابق، ایٹمی بجلی گھر آبادی سے 15 کلومیٹر دور ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا تھا کہ کراچی میں آبادی ایٹمی پلانٹ سے 10 کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے، جب کہ فضائی ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ وہاں سے ہوا کارُخ زیادہ تر شہر کراچی ہی کی جانب ہوتا ہے اور تابکاری کے اخراج کی صورت میں یہ کراچی سے ہو کر گزرے گی۔

پاکستان میں کتنے ایٹمی بجلی گھر ہیں؟

پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے زیرِ انتظام پہلے ہی ملک میں پانچ ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے جن میں سے ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ کراچی میں جب کہ چار ضلع میانوالی میں ’چشمہ‘ کے مقام پر ہیں۔

ملک میں ایٹمی ذرائع سے بجلی کی پیداوار اس وقت تقریباً 1400 میگاواٹ ہے۔

’کینپ ٹو‘ کے اس نئے پاور پلانٹ کے افتتاح کے بعد اب ایٹمی بجلی گھروں کی تعداد چھ ہوجائے گی، جب کہ اس سے بجلی کی پیداوار میں 1100 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔

اسی طرح 1100 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت کا ایک اور ایٹمی بجلی گھر ’کے-تھری‘ ابھی تنصیب کے آخری مراحل سے گزر رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق آئندہ سال کے آغاز تک اس سے پیداوار متوقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG