رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت کا برآمدی سیکٹر کی سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ


وزیر اعظم عمران خان کراچی میں بزنس کمیونٹی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ 24 مئی 2019

کراچی میں تاجروں کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اپنی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ حکومت برآمدات میں ان پانچ سیکٹرز کی سبسڈی ختم کرنے والی ہے جن پر زیرو ریٹڈ ٹیکس تھا۔ ان میں ٹیکسٹائل، قالین سازی، سرجیکل آلات اور اسپورٹس آئٹمز کی صنعتیں شامل ہیں۔ تاہم تاجروں نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔

ملاقات میں شریک معروف تاجر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے رہنما مرزا اختیار بیگ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تاجروں کا کہنا تھا کہ ان پانچ صنعتوں پر بھی سیلز ٹیکس نافذ کرنے سے برآمدات کا ہدف حاصل کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ اس سے تاجروں کو بھی بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

تاجر برادری نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ تاجر ٹیکس جمع کرانے میں کسی تردد کا شکار نہ ہوں۔ بے نامی ٹرانزیکشن اور کالے دھن کی روک تھام کے لیے بھی مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

ملاقات کرنے والوں میں فیڈریشن آف چیمبرز پاکستان اور کراچی چیمبر آف کامرس کا وفد بھی شریک تھا۔

تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے تقریباً دس ماہ ہو چکے ہیں۔ تاہم، حکومت اب تک ملکی معیشت کی خراب صورت حال کو سنبھال نہیں پائی ہے جس کے باعث اسے عوامی حلقوں اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آئی ایم ایف سے قرضوں کے حالیہ معاہدے کی شرائط ابھی سامنے آنا باقی ہیں لیکن یہ خدشات موجود ہیں کہ حکومت نے مالیاتی فنڈ کی کئی مشکل شرائط قبول کر لی ہیں۔

حال ہی میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر 8 ماہ میں 28 فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ اسی طرح حال ہی میں اسٹاک مارکیٹ بھی چار سال کی کم ترین سطح پر دیکھی گئی۔ اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال کے دس ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال کی نسبت سرمایہ کاری میں 51 فی صد کمی ہوئی۔

تحریک انصاف کی حکومت کو اپنی پوری اقتصادی ٹیم نو ماہ ہی میں تبدیل کرنا پڑی اور اسد عمر کی جگہ پاکستان پیپلز پارٹی دور کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کرنا پڑا، جب کہ چیئرمین ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک بھی تبدیل کیے گئے۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ ہارون شریف نے بھی بدھ کو اپنا استعفیٰ دے دیا اور سیکرٹری خزانہ یونس ڈھاگہ کو دو ماہ بعد ہی اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کی معاشی صورت حال غیر یقینی اور بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہے جس سے نکلنے کے لیے مشکل فیصلے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول قائم کرنا پڑے گا۔

عمران خان نے کراچی میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کی فنڈ ریزنگ کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع کو بھی انہوں نے حزب اختلاف کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں گزشتہ دس سال میں جس طرح لوٹ مار کی گئی ہے، اس سے یہ معاشی صورت حال تو پیدا ہونا ہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کی تمام تر کوششیں ملک کی معیشت کے استحکام پر مرکوز ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG