رسائی کے لنکس

logo-print

مسلح گروہوں کی اب پاکستان میں کوئی جگہ نہیں: عمران خان


عمران خان (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں اور انتہا پسندوں کے خلاف جاری کارروائیاں ملک کے معاشی استحکام کے لیے ضروری ہیں اور یہ کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثردرست نہیں کہ یہ کارروائیاں 'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس' (ایف اے ٹی ایف) کے دباؤ پر کی جارہی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ معیشت کی بحالی کی جانب مرکوز ہے۔ پاکستان بلیک لسٹ ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ معاشی پابندیوں سے مشکلات مزید بڑھیں گی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ اقدامات کے تحت حکومت 30 ہزار مدارس کو قومی دھارے میں لانے اور انتہا پسند سوچ رکھنے والے ہزاروں افراد کی بحالی پر کام کر رہی ہے۔

مسلح گروہوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں روسی فوجوں کے خلاف افغان جہاد کے لیے پاکستانی فوج نے انہیں بنایا۔

کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی پر داخلی مزاحمت سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا اس معاملے پرحکومت، فوج اور آئی ایس آئی ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ان کے بقول 'افغان جہاد' ختم ہونے پر ہم نے ایسے مسلح گروہوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا جو ایک غلطی تھی۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور عوام نے طے کرلیا ہے کہ کسی مسلح گروپ کو ملک میں پنپنے نہیں دیں گے۔ یہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

'مسئلۂ کشمیر حل کرنا ہوگا'

عمران خان نے منگل کو معاصر نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کو بھی ایک انٹرویو دیا۔

اپنے انٹرویو میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کی راہ میں مسئلہ کشمیر بڑی رکاوٹ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دو ایٹمی قوتوں کے پاس مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بھارتی حکومت اور عوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ دونوں ممالک کی پہلی ترجیح غربت کا خاتمہ ہونی چاہیے۔ لیکن اس سے قبل ان کے بقول ضروری ہے کہ ہم باہمی اختلافات ختم کریں اور یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ 14 فروری کو بھارتی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر خود کش حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔

پاکستان نے اس واقعے کے بعد اندرونِ ملک کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے اور ان کے زیرِ انتظام درجنوں دفاتر اور تعلیمی اور فلاحی ادارے حکومت نے اپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں۔

لیکن بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کی یہ کارروائیاں محض دکھاوا ہیں اور ماضی میں بھی پاکستانی حکومتیں ایسے دعوے کرتی رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG