رسائی کے لنکس

logo-print

دھرنا سیاست والوں کو لانگ مارچ کا سامنا


فائل

ایسے میں جب پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیدا ہونے والی قابل ذکر مہنگائی کے بعد سخت تنقید کا سامنا کر رہی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی مشروط دھمکی دے دی ہے۔

ادھر وزیر اعظم کے ایک روایتی حریف اور سیاسی مذہبی رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے بھی عیدالفطر کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف مل کر حکومت کے لیے آئندہ مہینوں میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے، لیکن اپنی اپنی جگہ حزب اختلاف کی کوئی بھی جماعت لوگوں کو جمع کرنے سے استعداد نہیں رکھتی۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے گڑھی خدا بخش میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر واضح الفاط میں کہا کہ ’’حکومت کو گھر بھیجنے کا وقت آ گیا ہے‘‘۔

بقول ان کے،’’ اب وہ وقت آ گیا ہے میرے دوستو، بہنو اور بھائیو کہ ہم کوچ کریں اور اسلام آباد چلیں، ان کو نکالیں وہاں سے، ان کو اتاریں۔‘‘

سابق صدر کے صاحبزادے اور پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اس موقع پر حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اگر وفاق نے اٹھارہویں ترمیم جس کے تحت صوبوں کو وسائل اور اختیارات تفویض کیے گئے ہیں، کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو، ان کے بقول، ’’ہم اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے‘‘۔

ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی حکومت کے خلاف عیدالفطر کے بعد تحریک چلانے کا اعادہ کیا ہے۔ کیا بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران اپوزیشن گروپوں کے احتجاج کی کال عوام کو حکومت کے خلاف متحد کر سکتی ہے؟ اس بارے میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ’’معاشی بحران کا فائدہ بلاول بھٹو اٹھا سکتے ہیں۔ عمران خان حکومت ٹیک آف نہیں کر پا رہی۔ وفاق کے محصولات میں کمی ہو رہی ہے معیشت کی نمو آدھی رہ گئی ہے، مزید دس لاکھ لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں‘‘۔

وہ کہتے ہیں کہ سیاسی رسہ کشی میں سال 2019 کی آخری سہہ ماہی اہم ہو گی۔ ان کے الفاظ میں، ’’سیاسی قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ عمران خان کے خلاف تحریک کے لیے یہ وقت مناسب نہیں۔ لہذا، سال کے آخر میں یا اگلے سال کے شروع میں بھی اگر معاشی مسائل رہتے ہیں تو اس وقت اپوزیشن کا اتحاد اہم ہو جائے گا۔‘‘

راؤ خالد چینل 92 سے وابستہ ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہتے ہیں کہ ’’پیپلز پارٹی سندھ کی حد تک مؤثر ہے، باقی صوبوں میں وہ عوام کو سڑکوں پر نہیں لا سکتی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ،’’اپوزیشن متحد نہیں۔ ان کے پاس نوابزادہ نصراللہ جیسی قیادت نہیں ہے۔ حکومت کو آئے ابھی کم وقت گزرا ہو تو اس کے خلاف تحریکیں سیاسی غلطی ہوتی ہے اور یہ غلطی 90 کی دہائی میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں کر چکے ہیں۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کسی طرح بہرحال لوگوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت ایماندار نہیں۔ لہٰذا، کم ہی لوگ کسی تحریک کا حصہ بننے کو تیار ہیں۔

تاہم ،راؤ خالد تسلیم کرتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں اگر رمضان کے دوران اشیائے خوردنی کی قیمتیں روایتی طور پر مزید اوپر جاتی ہیں تو پھر اس کا نقصان تحریک انصاف حکومت کو ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے خطاب پر میڈیا چینلز کے ساتھ اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ عمران خان اس وقت بھی ملک کے سب سے مقبول راہنما ہیں۔

ان کے بقول، ’’عوام ایسے رہنماؤں کے پیچھے کھڑے نہیں ہوں گے جنہوں نے ملکی معیشت کو اس نہج پر پہنچایا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین احتساب کے عمل میں جوابدہی سے بچنے کے لیے شور مچا رہے ہیں؛ اور دعوی کیا کہ ’’آئندہ چھ ماہ میں معاشی صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG