رسائی کے لنکس

عمران خان نے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہیہ لوگ 300 ارب کی کرپشن کے ذمےدار ہیں۔

علی رانا

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔ انہوں نے موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان ایک ایسے وزیراعظم ہیں جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وہ تو خود نواز شریف کو وزیراعظم مانتے ہیں، لہذا ملک میں فوری طور پر صاف و شفاف انتخابات کرانے جائیں، اس سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔

اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عمران کا کہنا تھا کہ یہ لوگ جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم ایک غیرذمہ دارانہ بیان دیتا ہے کہ یہاں سے چند لوگوں نے کابل میں دہشت گردی کی۔ آج داعش کے جھنڈوں کی بات ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اپنی فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ سپریم کور ٹ کے 5 رکنی بنچ نے نواز شریف کی برطرفی کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف سمیت ان کے سارے بچے عدالتوں میں جھوٹ بول رہے تھے۔

اس کے بعد بھی اگر وزیر اعظم اگر نواز شریف کو وزیر اعظم ہی مانتے ہیں تو یہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننا ہوا۔ اگر آج وزیراعظم سپریم کور ٹ کا فیصلہ نہیں مانتا تو مستقبل میں باقی عوام اعلی عدلیہ کا فیصلہ کیسے مانیں گے۔

انہوں نے پارلیمان میں پاس ہونے والے حالیہ بل کے حوالے سے کہا کہ ایسا بل صرف پاکستان کی جمہوریت میں ہی پاس ہوا۔ اس بل سے جمہوریت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ پاکستان کی جمہوریت کو دھچکا لگا ہے۔ ایک کرپٹ شخص کو پارٹی صدر بنایا گیا ہے۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف پالیسی متعارف کرائی۔ لیکن افغانستان میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی پر پاکستان سے کوئی جواب دینے والا نہیں تھا کیونکہ وزیر اعظم کو پانامہ کی پڑی ہوئی تھی۔

وزیر اعظم، خواجہ آصف اور احسن اقبال اپنا گھر ٹھیک کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور یہی بات نئی دلی بھی کر رہا ہے۔ ایسے بیانیے سے یہ لوگ ملک کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ کیا چار برس بعد اپنے گھر کو ٹھیک کرنے اور گھر کی صفائی کا خیال آیا۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام باتوں کے تناظر میں میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وزیر اعظم فوری طور پر عوام سےتازہ مینڈیٹ حاصل کریں۔

عمران خان نے چئیرمین نیب کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا،اور کہا کہ ہم قائد حزب اختلاف کو تبدیل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ چیئرمین چوہدری قمر زمان کی تقرری کا مقصد ایک دوسرے کو بچانا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG