رسائی کے لنکس

logo-print

’بدعنوانی میں ملوث ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونے چاہئیں‘


فائل

پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان نے وزارت قانون کو پروڈکشن آرڈرز رولز میں ترمیم لانے کی ہدایت کر دی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بدعنوانی میں ملوث ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونے چاہئیں۔

اطلاعات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ مجرموں کی کوشش ہے کہ کسی طرح ان کو این آر او حاصل ہوجائے، بدقسمتی سے جو منی لانڈرنگ اور منشیات فروشی میں ملوث ہیں وہ جیلوں میں اے کلاس لے کر پروڈکشن آرڈر لے لیتے ہیں۔

پاکستان میں وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ کرپشن میں سزا یافتہ افراد کو وی آئی پی جیل میں نہ رکھا جائے، کیونکہ نئے پاکستان میں سارے قیدیوں سے برابر سلوک ہوگا اور بدعنوانی میں ملوث ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں ہونے چاہیئں۔

انہوں نے وزارت قانون کو پروڈکشن آرڈرز رولز میں ترمیم لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’پروڈکشن آرڈرز سیاسی قیدیوں کے لئے ہوتے ہیں، قومی خزانے میں خردبرد کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں‘‘۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی کی گرفتاری پر وزیر اعظم نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سیاسی نہیں قانونی معاملہ ہے جس سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں۔

کابینہ اجلاس کے بعد معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیر اعظم نے پروڈکشن آرڈر سے متعلق قانون کو صوبائی حکومتوں سے مل کر تبدیل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

نیب کے زیر حراست پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ ’’جو بجٹ میں پارلیمنٹ آنے کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کروا کے لائے تھے وہ پارلیمنٹ کی راہداریوں میں نظر آئے۔ مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہو سکتی، مجرموں کی کوشش ہے کہ کسی طرح ان کو این آر او حاصل ہو جائے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے جو منی لانڈرنگ اور منشیات فروشی میں ملوث ہیں وہ جیلوں میں اے کلاس لے کر پروڈکشن آرڈر لے لیتے ہیں‘‘۔

ڈالر کی اونچی اڑان پر معاون خصوصی نے بتایا کہ ڈالر کی منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ روکنے سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہمیں تکلیف ہے کہ ایک رکن پارلیمان پر ہیروئن اسمگلنگ کا داغ لگ گیا ہے، اگر وہ بے گناہ ہیں تو عدالت میں جا کر اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ بدقسمتی سے رانا ثناء اللہ آسان پیسہ کمانے کے چکر میں گرفتار اور بدنام ہوئے پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سیاسی رہنماوں کو مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا جن میں سے قائد حزب اختلاف شہباز شریف ضمانت پر ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس، پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور بھی جعلی اکاؤنٹس کیس جبکہ پنجاب اسمبلی کے رکن حمزہ شہباز آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار ہیں۔

خواجہ سعد رفیق کی بات کریں تو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں انہیں گرفتار کیا گیا۔ اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے تمام ارکان پارلیمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG