رسائی کے لنکس

logo-print

او آئی سی اجلاس، عمران خان سعودی عرب پہنچ گئے


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم کا سربراہ اجلاس جمعے کو مکہ میں ہو گا۔ کانفرنس کی میزبانی سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کریں گے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے 57 رکن ملکوں کی قیادت اس کانفرنس میں مدعو ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کانفرنس کا مقصد اسلامی دنیا کو درپیش مسائل پر متفقہ مؤقف وضع کرنا ہے۔

او آئی سی کے سربراہ اجلاس سے پہلے بدھ کو اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جدہ میں منعقد ہوا جس میں سربراہ کانفرنس کے مجوزہ اعلامیے اور ایجنڈے کے دیگر نکات کی منظوری دی گئی۔

او آئی سی کی سربراہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے ذریعے ریاض حکومت مشرقِ وسطیٰ میں تہران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنے کے لیے اسلامی ممالک کا تعاون حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔

لیکن بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ تمام اسلامی ملکوں کے لیے ایران کے خلاف سعودی عرب کے مؤقف کی کھل کر حمایت کرنا شاید ممکن نہ ہو۔

اسلامی دنیا کو اس وقت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے دو حریف اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے او آئی سی کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہی۔

پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کا ایک اہم ملک ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور معاملات کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دے چکا ہے۔

پاکستان ماضی میں تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے کوشش بھی کرتا رہا ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان ایک حد تک ہی دونوں ملکوں کی باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور قائدِ اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی دنیا کو درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیے او آئی سی کوئی خاص کردار ادا نہیں کر سکتی۔

ان کے بقول ''مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا تعلق خطے کی اندرونی صورتِ حال سے ہے جس میں بعض ملک خطے میں اپنے اسٹرٹیجک اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں جس کی وجہ سے صورتِ حال کشیدہ ہو گئی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم ایران اور عرب ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اس بات کی توقع کم ہے کہ پاکستان کی کوشش کامیاب ہو گی۔

دوسری طرف بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کے الفاظ میں،"پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کا کردار تو ادا کر سکتا ہے۔ لیکن، دونوں ملکوں کے باہمی مسائل کو حل کرنے میں شاید پاکستان کوئی بڑا کردار ادا نہ کر پائے۔"

دوسری طرف پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمد قریشی نے جدہ میں بدھ کو ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تقریر کے دوران بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اسلامی ممالک سے درخواست کی کہ وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کے تحت تحقیقاتی کمشن تشکیل دینے سے متعلق پاکستانی کوششوں کی حمایت کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG