رسائی کے لنکس

logo-print

او آئی سی اجلاس میں امریکہ، ایران کشیدگی پر تبادلۂ خیال کا امکان


گزشتہ سال مئی میں ترکی میں ہونے والے او آئی سی کے سربراہ اجلاس کی ایک تصویر (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں امریکہ، ایران کشیدگی پر تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کی صبح سعودی عرب روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ منگل اور بدھ کو منعقدہ اجلاس میں او آئی سی کے آئندہ سربراہ اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس 31 مئی کو مکہ میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے قبل ہو رہا ہے جس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان بھی شریک ہوں گے۔

اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال خاصی سنگین ہے۔

منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر بھی بات ہو گی۔

شاہ محمود قریشی (فائل فوٹو)
شاہ محمود قریشی (فائل فوٹو)

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مکہ میں ہونے والا او آئی سی کا سربراہ اجلاس اسلامی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں رکن ملکوں کی جانب سے مشترکہ لائحہ ٔعمل مرتب کرنے کے لیے منعقد ہو رہا ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے او آئی سی کے 57 ملکوں کی قیادت کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب کے حریف ایران کے صدر اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات 2016ء سے منقطع ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مکہ میں او آئی سی کا سربراہ اجلاس بلانے کا مقصد سعودی عرب کی طرف سے اپنے مخالف ایران کے خلاف دیگر مسلمان ملکوں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

دوسری طرف ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف بھی مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال کے تناظر میں اپنے ملک کے مؤقف کے لیے سفارتی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے حالیہ ہفتوں میں خطے کے کئی اہم ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہو گیا تھا جب امریکہ نے ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کا استثنیٰ ختم کرتے ہوئے تہران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

جواب میں ایران نے بھی 2015ء میں یورپی ممالک اور امریکہ کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو کر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔

امریکہ کا ایران پر الزام ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ امریکہ نے رواں ماہ خلیج عمان میں دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار تیل بردار جہازوں پر ہونے والے حملوں کا الزام بھی ایران پر عائد کیا تھا۔ لیکن ایران اس الزام کو مسترد کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG