رسائی کے لنکس

وفاقی کابینہ میں رد و بدل، کئی وزرا کے قلم دان تبدیل


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ردو بدل کیا ہے۔ جس کے مطابق خسرو بختیار سے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا قلم دان واپس لے لیا گیا ہے جب کہ ان کی جگہ یہ وزارت فخر امام کو دے دی گئی ہے۔ جہانگیر ترین کو بھی چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں گندم اور چینی کے بحران کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی تھی جس کے بعد وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جب کہ کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔

حکومت کے اعلان کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ بھی منظور کر لیا گیا ہے۔

خالد مقبول صدیقی کی جگہ امین الحق کو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) بنا دیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں کرتے ہوئے خسرو بختیار کو وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور تعینات کیا گیا جب کہ حماد اظہر کو وفاقی وزیر صنعت و پیداوار بنا دیا گیا۔

اعظم سواتی کو وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات جب کہ بابر اعوان کو مشیر برائے پارلیمانی امور تعینات کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے مشیر شہزاد ارباب کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جب کہ ‏جہانگیر ترین کو بھی چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ہاشم پوپلزئی کو سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کے عہدہ سے ہٹا کر ان کی جگہ عمر حمید کو تعینات کیا گیا ہے۔

وفاق میں ہونے والی ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی سرکاری سطح پر کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب جہانگیر ترین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی ٹاسک فورس کے سربراہ نہیں تھے۔

ٹوئٹر پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ میں کبھی کسی بھی ٹاک فورس کا سربراہ نہیں تھا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر وہ کبھی کسی ٹاسک فورس کے سربراہ تھے تو اس کا سرکاری حکم نامہ دکھایا جائے۔

تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کو چینی اور گندم سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں زراعت سے متعلق ٹاسک فورس کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

شہباز گل نے ایک اور ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ کابینہ میں تبدیلیاں چینی اور آٹے سے متعلق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کی وجہ سے کی گئی ہیں۔

پنجاب کے وزیر خوراک مستعفی

صوبہ پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے آٹا اور چینی بحران سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ میں اپنا نام آنے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد انہیں اپنا استعفٰی بھجوایا ہے۔

استعفٰی میں لکھا گیا ہے کہ محکمہ خوراک میں اصلاحات نہ کرنے کے باعث اُن پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ جس کے باعث وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سمیع اللہ چوہدری نے کہا کہ اُنہوں نے استعفٰی دے کر وزیراعظم عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ جب کہ اُن پر بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

سمیع اللہ چوہدری نے کہا کہ استعفٰی دیتے وقت اُن پر کسی قسم کو کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ اپنی مرضی سے وزارت سے مستعفی ہورہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں اور جب تک وہ خود کو بے قصور ثابت نہ کردیں۔ وہ خود کو اِس عہدے کے لیے اہل نہیں سمجھتے۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کا استعفی منظور کر لیا ہے۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار نے نسیم صادق کی کمشنر ڈی جی خان کے عہدے سے علیحدہ کرنے کی درخواست قبول کرتے ہوئے اُنہیں اور سابق ڈائریکٹر خوراک ظفر اقبال کو بھی او ایس ڈی بنا دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں چینی اورآٹے بحران کے حوالے سے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں سمیع اللہ چوہدری اور دیگر کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

'آٹے اور چینی بحران کے ذمہ دار وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں'

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان اعظمٰی بخاری نے سمیع اللہ چوہدری کے مستعفی ہونے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر نے نیب اور ایف آئی اے انکوائری سے بچنے کے لیے استعفی دیا ہے۔

اعظمٰی بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ آٹے اور چینی بحران کے سب سے بڑے ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ہیں۔

بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے سمیع اللہ چوہدری کو قربانی کا بکرا بنایا ہے جب کہ خسرو بختیار سے استعفی لینے کی بجائے وزارت تبدیل کی گئی ہے۔

'استعفیٰ تو وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو دینا چاہیے'

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پنجاب کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ کہتے ہیں کہ چینی اور گندم کی چوری کا کُھرا وزیر اعظم ہاؤس اور بنی گالا تک جاتا ہے۔

ان کے بقول اِس اسکینڈل میں پنجاب کے وزیر خوراک کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حسن مرتضیٰ نے کہا کہ اتنے بڑے بحران میں قربانی ایک کی دی گئی جب کہ عمران خان اور عثمان بزدار بھی اِس میں برابر کے شریک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ استعفٰی تو وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب کو دینا چاہیے کیونکہ چین برآمد کرنے کی اجازت وزیر اعظم نے دی تھی تو وہ عہدے پر کیسے رہ سکتے ہیں۔

حسن مرتضیٰ کے مطابق سبسڈی کی منظوری وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ پنجاب نے دی، استعفیٰ تو ان سب کا بنتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب بھی ایسا کوئی کمشن بنتا ہے تو اس قسم کے سکینڈل کی وجہ سے انتظامی اور سیاسی اثرات پڑتے ہیں۔ وزیراعظم نے کمشن بنایا اور جب ان کے نتائج آتے ہیں تو اس پر کابینہ تبدیلی اور بڑے فیصلے ایک معمول کی بات ہے۔ لیکن مستقبل میں ان فیصلوں کے دور رس اثرات ہوں گے۔ بالخصوص جنوبی پنجاب میں ان فیصلوں کے بہت نمایاں اثرات ہوں گے۔ وزیراعظم کی ہائی مورال گراؤنڈ پر شہرت میں اضافہ ہو گا کہ کرپشن پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کی، لیکن مستقبل میں انہیں اپنے ساتھیوں سے محروم ہونا پڑے گا۔

خسرو بختیار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فرانزک رپورٹ 25 اپریل کو آئی ہے اور اس وقت تک خسرو بختیار کو اس حوالے سے وقت دیا جا سکتا ہے کہ اس رپورٹ میں یہ سامنے آئے گا کہ کس نے کس قدر فائدہ اٹھایا ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ فی الحال کرونا کے حوالے سے حکومت کی جو کوتاہیاں اور غلطیاں ہیں ان پر وقتی طور پر پردہ پڑ جائے گا اور وزیراعظم ان فیصلوں کا کریڈٹ لیں گے کہ اپنے کرپٹ ساتھیوں کے خلاف کارروائی کی لیکن ایسے کمشنز کی رپورٹ کا فال آؤٹ نظر آتا ہے، لہذا انہیں اپنے ساتھیوں کی قربانی دینا پڑے گی۔ جب قربانی دینا پڑے گی تو سیاسی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، لہذا وزیراعظم کو دونوں صورتوں میں نقصان ہے۔

تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ اس تمام معاملے کا کرونا وائرس کی گورننس یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا کہ شفاف گورننس فراہم کی جائے گی۔ اس سکینڈل سے پہلے حکومت کا کوئی مالیاتی اسکینڈل نہیں آیا تھا۔ اب یہ رپورٹ جو سامنے آئی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ اس میں شامل ہیں۔ تمام رولنگ ایلیٹ اس سکینڈل میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ اس میں تمام کرپٹ لوگوں کو سامنے لایا جائے گا۔ اس کا کرونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا امیج بہتر ہے۔ عمران خان کا امیج لوگوں میں یہ ہے کہ وہ بے ایمان لوگوں کو قریب نہیں آنے دیتے اور کسی سے ڈرے بغیر قدم اٹھاتے ہیں۔ فلاحی ریاست کے حوالے سے عمران خان کے اعلانات کو لوگ مان رہے ہیں۔ لہذا عمران خان کا یہ اقدام سیاسی شعبدہ بازی نہیں بلکہ یہ کرپشن کے خاتمہ کے لیے ہے۔

جنوبی پنجاب کی سیاست پر اثرات کے حوالے سے رسول بخش رئیس نے کہا کہ عمران خان کے لیے دو راستے ہیں کہ وہ روایتی سیاست کریں یا پھر مختلف کریں۔ اگر وزیراعظم اگلے انتخابات کا خیال کر کے جائیں گے تو ان کی سیاست کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہو گی۔ میرے خیال میں وہ دوسرا راستہ اختیار کریں گے جس میں وہ سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر ایکشن لیں گے اور تمام کرپٹ لوگوں کو انجام تک پہنچائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG