رسائی کے لنکس

کہیں پہرے میں شادی، کہیں سیاحوں کی بے دخلی


دہلی، شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرے میں شریک طالبہ کو پولیس روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دسمبر 27, 2019 (فوٹو ، رائٹرز)

بھارتی شہر کانپور میں چالیس ہندوؤں نے محلے کی ایک مسلمان لڑکی کی شادی کی تقریب کے دوران حفاظتی پہرہ دے کر انسان دوستی کی مثال قائم کی، جب کہ بھارتی حکومت کی طرف سے شہریت کے متنازعہ قانون اور قومی رجسٹریشن ایکٹ کے نفاذ کے بعد احتجاجی مظاہروں میں گزشتہ ہفتے کانپور سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

میرٹھ، اتر پردیش، پہرے پر موجود پولیس اہلکاروں کے پاس سے گزرتی باپردہ خواتین ۔ دسمبر 27, 2019 (فوٹو رائٹرز)
میرٹھ، اتر پردیش، پہرے پر موجود پولیس اہلکاروں کے پاس سے گزرتی باپردہ خواتین ۔ دسمبر 27, 2019 (فوٹو رائٹرز)

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، دلہن کے چچا واجد فضل نے بتایا کہ وہ اپنی بھتیجی کی شادی کی تاریخ مقرر کرنے کے اگلے روز علاقے میں کشیدگی کے باعث اسے منسوخ کرنے پر غور کر رہے تھے۔ اسی دوران، ان کے علاقے کی ہندو برادری کے کچھ اکابرین نے ان سے بچی کی بحفاظت رخصتی یقینی بنانے کا وعدہ کیا اور تسلی دی کہ شادی کی تقریب کے دوران وہ حفاظتی فرائض انجام دیں گے، تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔ شادی کے دن علاقے کی ہندو اکثریت سے تعلق رکھنے والے 40 افراد حفاظتی ڈیوٹی انجام دیتے رہے اور واجد فضل کی بھتیجی کی شادی کی تقریبات بخیر و خوبی انجام کو پہنچیں۔ واجد فضل کا کہنا ہے کہ وہ علاقے کی ہندو برادری کے اس جذبے اور مدد کو کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔

شادی کے دوران تحفظ فراہم کرنے والے ہندو گروپ کے منتظم، انوپ ٹواری نے بتایا کہ وہ خود بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سرگرم رکن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ملک میں کسی بھی اقلیتی برادری کے خلاف امتیاز برتنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلہن زینت ہماری بیٹیوں جیسی ہے اور یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ اس کی شادی کی مقررہ دن اور مقام پر باحفاظت تکمیل کو ممکن بنائیں۔

شہریت کے متنازعہ قانون اور قومی رجسٹریشن ایکٹ کے خلاف بھارت بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں میں اب تک کم سے کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دہلی، ناروے کی سیاح جین میٹ جانسن ، دسمبر 27, 2019 (فوٹو، رائٹرز)
دہلی، ناروے کی سیاح جین میٹ جانسن ، دسمبر 27, 2019 (فوٹو، رائٹرز)

ادھر جنوبی ریاست کیرالا میں ناروے کی 71 سالہ سیاح خاتون جین میٹ جانسن کو شہریت کے قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرنے پر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ کوچی ایئرپورٹ پر غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کے دفتر کے ترجمان انوپ کرشنا نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ سیاح نے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ لہذا، انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ریاست اتر پردیش میں شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف مظاہروں میں پولیس سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے علیم انصاری کی والدہ سائرہ دسمبرچوبیس،دوہزار انیس
ریاست اتر پردیش میں شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف مظاہروں میں پولیس سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے علیم انصاری کی والدہ سائرہ دسمبرچوبیس،دوہزار انیس

جانسن نے فیس بک پر لکھا ہے، ’’یہ کوئی فسادات نہیں ہیں۔ یہ مضبوط ارادے والے لوگ ہیں، جو اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ مظاہرے میں شرکت سے قبل انہوں نے مقامی پولیس سے اجازت طلب کی تھی اور پولیس نے زبانی طور پر انہیں مظاہرے میں شریک ہونے کی اجازت دے دی تھی‘‘۔

دیلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہر مظاہرے میں شریک ایک بزرگ ، دسمبر 26, 2019 (فوٹو رائٹرز)
دیلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہر مظاہرے میں شریک ایک بزرگ ، دسمبر 26, 2019 (فوٹو رائٹرز)

اسی طرح جرمنی کے تبادلے پروگرام کے تحت بھارت میں مقیم طالب علم کو بھی دو احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی بنا پر ملک چھوڑنے کیلئے کہا گیا ہے۔

ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی، اپنے حامیوں کے ساتھ متنازعہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئیں ۔ 26دسمبر 2019 (فوٹو، رائٹرز)
ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی، اپنے حامیوں کے ساتھ متنازعہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئیں ۔ 26دسمبر 2019 (فوٹو، رائٹرز)

اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں نے ان دونوں واقعات کی مذمت کی ہے۔ کانگریس پارٹی کی ترجمان شمع محمد نے ایک ٹویٹ میں کہا، ’’وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کے اس اقدام سے دنیا بھر میں بھارت کے ایک بردبار جمہوریہ ہونے کے تصور کو دھچکا لگا ہے۔‘‘

میرٹھ، اتر پردیش میں حفاظتی جیکٹس پہنے بھارتی پولیس کی خواتین اہلکار سخت سردی سے بچنے کے لئے آگ کے قریب کھڑی ہیں۔ دسمبر27، 2019
میرٹھ، اتر پردیش میں حفاظتی جیکٹس پہنے بھارتی پولیس کی خواتین اہلکار سخت سردی سے بچنے کے لئے آگ کے قریب کھڑی ہیں۔ دسمبر27، 2019

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG