رسائی کے لنکس

بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج، جمعے کو سیکیورٹی سخت


فائل فوٹو

بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ جمعے کو احتجاجی اجتماعات کے پیش نظر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے.

بھارتی ریاست اتر پردیش کی انتظامیہ نے لکھنؤ سمیت ریاست کے مختلف شہروں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام نے نئی دہلی کے بعض مقامات پر ایمرجنسی نافذ کر کے لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسی نوعیت کی پابندیاں گزشتہ ایک ہفتے سے اتر پردیش میں عائد ہیں۔

تاہم پابندیوں کے باوجود سیکڑوں مظاہرین نے جامعہ مسجد دہلی کے باہر جمع ہو کر شہریت بل کے خلاف احتجاج کیا۔

کانگریس رہنما الکا لامبا اور دہلی سے رکنِ اسمبلی شعیب اقبال مسجد کے باہر ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے۔

'شہریت قانون واپس لینے تک احتجاج جاری رہے گا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:56 0:00

کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارت میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن حکومت اس پر توجہ دینے کے بجائے این آر سی کے نام پر لوگوں کو قطاروں میں کھڑا ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔

نئی دہلی کے علاقوں اتر پردیش بھون، سیلام پور، جعفرآباد اور شمالی دہلی کے علاقوں میں جلوس نکالنے پر مکمل پابند عائد کی گئی۔ ان علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اتر پردیش بھون کے باہر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے احتجاج کا پروگرام بنا رکھا ہے جسے روکنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کئی روز سے جاری مظاہروں کے دوران اب تک 25 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

خاص طور پر ممبئی، کولکتہ، بینگلورو، چنائی اور احمد آباد میں احتجاجی مظاہرین نے بڑے پیمانے پر جمعے کو احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہرے گزشتہ جمعے کو شدت اختیار کر گئے تھے۔ جب بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش، دارالحکومت نئی دہلی سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

بھارت کی پارلیمان کی جانب سے 11 دسمبر کو منظور ہونے والے متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔

اترپردیش کے شہر میرٹھ میں جمعے کو تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

متنازع قانون کے تحت بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وہ شہری جو مسلمان نہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، اُنہیں بھارت میں شہریت دی جا سکتی ہے۔

سابق فوجی سربراہ کی آرمی چیف کے بیان کی حمایت

دریں اثنا بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت کے بیان پر بھارت میں بحث جاری ہے۔ جنرل پن راوت نے شہریت بل کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے متعلق کہا تھا کہ ’’لیڈر وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو درست سمت پر چلاتے ہیں۔ لیڈر وہ نہیں ہوتے جو لوگوں کو نامناسب سمت دکھاتے ہیں، جس طرح ہم نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں جامعات اور کالجز کے طلبہ باہر نکلے۔"

آرمی چیف کے اس بیان پر بھارت کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ بعض سیاسی رہنماؤں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ بھارتی آرمی چیف پاکستان کی طرح بھارت میں بھی فوج کو سیاسی معاملات میں لا رہے ہیں۔

بھارت کے آرمی چیف جنرل بین راوت
بھارت کے آرمی چیف جنرل بین راوت

البتہ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ جو اب مرکزی وزیر بھی ہیں، نے جنرل بپن راوت کے بیان کا دفاع کیا ہے۔

وی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ میڈیا کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آرمی چیف نے کس سیاق و سباق میں یہ بات کی۔

وی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا بیان قطعی طور پر سیاسی نہیں تھا۔ انہوں نے صرف طلبہ کو تلقین کی کہ مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھیں۔

سابق آرمی چیف نے اپوزیشن رہنماؤں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ہمارے ملک میں اپوزیشن کسی بھی معاملے کو متنازع بنا سکتی ہے۔ اگر میں فٹ بال کھیل رہا ہوں تو اپوزیشن کہے گی نہیں یہ سیاست ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG