رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں جاری مظاہروں پر آرمی چیف کے 'سیاسی' بیان پر تنازع


حزب اختلاف کی جماعتوں نے آرمی چیف کے بیان کو سیاسی قرار دیا ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت کے شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں جاری مظاہروں پر بیان سامنے آیا ہے جس پر حزب اختلاف کی جماعتیں اسے سیاسی بیان قرار دے رہی ہیں۔

جنرل بپن راوت نے جمعرات کو نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لیڈر وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو درست سمت پر چلاتے ہیں۔ لیڈر وہ نہیں ہوتے جو لوگوں کو نامناسب سمت دکھاتے ہیں، جس طرح ہم نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں جامعات اور کالجز کے طلبہ باہر نکلے‘‘۔

آرمی چیف نے مظاہرین کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’رہنما وہ ہوتا ہے جو قیادت کرتا ہے۔ جب آپ آگے بڑھتے ہیں تو لوگ آپ کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہیں‘‘۔

اُن کے بقول، ’’جس طرح لوگوں کے ہجوم اسلحہ لے کر نکلے اور مختلف شہروں اور قصبوں میں ہنگامہ آرائی کرتے رہے یہ لیڈرشپ نہیں ہوتی‘‘۔

جنرل بپن راوت کے بیان کو حزب اختلاف کی جماعتیں سیاسی بیان قرار دے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ جنرل بپن راوت 31 دسمبر 2019 کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں اور ان کا بیان ریٹائرمنٹ سے محض چار روز قبل سامنے آیا ہے، جب شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

ان مظاہروں میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں سمیت طلبہ اور سول سوسائٹی بھی شریک ہے۔

جنرل بپن راوت کے بیان پر حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے ترجمان برجیس کلپا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل بپن راوت کا بیان شہریت قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کی مخالفت میں ہے جو کہ مکمل طور پر آئینی جمہوریت کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آرمی چیف کو آج سیاسی معاملات میں بیان بازی کی اجازت دی گئی تو کل انہیں حکومت کا تختہ الٹنے کا بھی جواز مل جائے گا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور بھارت کے ایوان زیریں کے رکن اسد الدین اویسی نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ قیادت کا مطلب اپنی حدود کو جاننا ہے۔ یہ سویلین بالادستی کے خیال کو سمجھنا اور ادارے کی سالمیت کا تحفظ کرنا ہے جس کی آپ سربراہی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت میں 11 دسمبر 2019 کو دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ مظاہروں کے دوران اب تک 20 افراد سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 1500 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بھارت میں منظور ہونے والے اس قانون کے تحت بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وہ شہری جو مسلمان نہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، اُنہیں بھارت میں شہریت دی جا سکتی ہے۔

بھارت کے مسلمان نئے قانون کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں جب کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی وضاحت کر چکے ہیں کہ نیا قانون مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG