رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: بچوں کا اغوا روکنے کے لیے سائیکل سوار گروپ سرگرم


ریاست بہار میں 50 رضا کار سائیکلوں پر گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بھارت میں سائیکل سوار رضاکاروں کا ایک گروپ بچوں کے اغوا اور اسمگلنگ روکنے کے لیے سرگرم ہے۔ سائیکل سواروں کی اس فورس کو 'بائی سائیکل کاررواں' کا نام دیا گیا ہے۔ فورس منصوبے کے تحت بھارت کی تین ریاستوں کے ایک ہزار دیہات میں کام کر رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق 50 سائیکل سواروں کی فورس نوبل انعام یافتہ کیلاش ستھیارتھی کے ذہن کی تخلیق ہے۔

بھارتی حکام نے اس فورس کے رضاکاروں کی نشاندہی پر درجنوں مغوی بچوں کو بازیاب کیا ہے۔ یہ رضاکار بچوں کےحقوق کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

بچوں کی تعلیم اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کے ساتھ 2014 میں نوبل انعام شیئر کرنے والے ستھیارتھی کئی عشروں سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام پر مامور پولیس یونٹس اور پروٹیکشن ایجنسیز کے ساتھ مل کر بچوں کو اغوا ہونے سے بچانے اور اغوا کاروں کو سزا دلانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

بچوں کے اغوا اور ٹریفکنگ کا گڑھ سمجھی جانے والی ریاست بہار میں تقریباً 50 رضاکار سائیکلوں پر گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حکام کے مطابق رضاکاروں کی مدد سے گزشتہ ہفتے 60 بچوں کو بازیاب کیا گیا اور نو اغوا کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

سائیکل سوار بچپن میں خود بھی مزدوری کرتے رہے ہیں۔ ان کی سائیکل پر زرد رنگ کا ایک چمکیلا باکس نصب ہوتا ہے جس پر سرخ رنگ سے ہیلپ لائن نمبر اور انفارمرز کے نیٹ ورک کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 'کے ایس سی ایف' کے رضاکاروں کی مدد سے گزشتہ جمعرات کو بہار میں 28 بچوں کو بازیاب کیا گیا۔

گشت پر مامور 24 سال کے رضاکار مکیش مکھیا نے بہار سے فون پر خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کہا کہ وہ خود بھی چائلڈ لیبر رہ چکے ہیں۔ بچپن میں وہ کھیتوں میں کام کرتے تھے اور انہیں 11 سال کی عمر میں بازیاب کرایا گیا تھا۔

مکیش کا کہنا تھا کہ بچوں کو اغوا کاروں اور اسمگل ہونے سے بچانا اور انہیں اسکول بھیجنا بہت اہم ہے۔ لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں وہ گھروں میں بیٹھے ہیں۔ ہزاروں بچوں کی ٹریفکنگ کا خطرہ ہے۔ ہمیں ان بچوں کو بچانا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور رضاکاروں کا کہنا ہے کہ کرونا وبا کے باعث لاک ڈاؤن میں متعدد لوگ روزگار اور اپنی جمع پونجی سے محروم ہوئے۔ ان حالات میں بچوں کے اغوا اور اسمگلنگ میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بھارت میں 15 سال سے کم عمر بچے کو ملازم رکھنا غیر قانونی ہے لیکن بچوں کو اسکول کے بعد خاندانی کاروبار میں مدد کرنے یا حصہ لینے کی اجازت ہے۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ اس اجازت سے بچوں کو ملازم رکھنے والے اور اغوا کار فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کیلاش ستھیارتھی چلڈرنز فاؤنڈیشن کے مطابق حالیہ مون سون میں بہار سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا جس سے حالات مزید خراب اور لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

ریاست اتر پردیش (یو پی) کے چائلڈ پروٹیکشن پینل کے مطابق حکام نے رات کے وقت کیے گئے ریسکیو آپریشن میں ویک اینڈ پر دہلی جانے والی بسوں سے متعدد بچوں کو بازیاب کرایا۔

اتر پردیش میں پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کمیشن کے سربراہ ویشیش گپتا نے بتایا کہ نو اغوا کاروں کو گرفتار کرکے انسدادِ انسانی اسمگلنگ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

بھارت میں کاروبار کھلنے کے بعد بہت سی ریاستوں نے دیگر ریاستوں کے ساتھ سرحدی علاقوں میں نگرانی بڑھا دی ہے تاکہ ٹریفکنگ کو روکا جا سکے۔

بھارت کے نیشنل چائلڈ پروٹیکشن پینل نے دیہات کی کونسلوں سے کہا ہے کہ وہ لوگوں اور خاندانوں کو فلاحی اسکیموں سے منسلک کریں تاکہ ان تک کھانے پینے کی اشیا اور مالی امداد پہنچ سکے کیوں کہ ٹریفکنگ کا بنیادی سبب مالی تنگی سے جڑا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG