رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: کچرا چننے والے کرونا وائرس سے کیوں نہیں ڈرتے؟


منصور خان دہلی کے قریب کچرا پٹی سے کچرا چننے کا کام کرتے ہیں۔

منصور خان اور ان کی اہلیہ لطیفہ بی بی تقریباً 20 برس سے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں ایک بہت بڑی کچرا پٹی سے پلاسٹک اور دیگر اشیا چننے کا کام کرتے آ رہے ہیں۔

وہ دونوں اس کام سے ہونے والی پانچ ڈالر (375 بھارتی روپے) یومیہ کی آمدن سے گھر کے اخراجات کے علاوہ تین بچوں کے اسکول فیس ادا کرتے ہیں۔ منصور اور ان کی اہلیہ بچوں کو کچرا پٹی کے تعفن سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے میں کوشاں ہیں۔

پچھلے کچھ ماہ سے کچرا پٹی پر بائیو میڈیکل فضلے کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے سبب ماہرین کا کہنا ہے کہ کچرا چننے والوں کی صحت کو وبائی مرض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی کے تمام علاقوں سے 52 ایکٹر رقبے پر پھیلی اس کچرا پٹی پر سیکڑوں ٹن کچرا جس میں استعمال شدہ پلاسٹک، کرونا وائرس کی ٹیسٹ کٹس، استعمال شدہ حفاظتی لباس، خون میں لت پت روئی اور نرسنگ ہومز کا فضلہ بھی یہاں لاکر جمع کیا جاتا ہے۔

یہاں کچرے سے پلاسٹک اور دیگر اشیا چننے کا کام کرنے والے سیکڑوں افراد دستانوں کے بغیر کچرا چنتے ہیں۔ ان میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔

ان لوگوں کو مسلسل اس وبا کے خطرات لاحق ہیں جس سے اب تک دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ 6 لاکھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
صرف بھارت میں ہی کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ ہے۔ وبائی مرض سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ اور برازیل کے بعد تیسرا نمبر بھی بھارت کا ہی ہے۔

منصور خان کی عمر 44 سال ہے اور وہ تمام خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن ان کے پاس متبادل ذریعۂ معاش نہیں۔

منصور خان نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کہا کہ اگر ہم یہی سوچتے رہیں کہ کرونا وائرس سے مر جائیں گے تو پیٹ کی آگ کس طرح ٹھنڈی ہو گی؟ موت تو بھوکا رہنے سے بھی آ سکتی ہے۔

منصور خان اس مقام پر صرف کام ہی نہیں کرتے بلکہ ان کا دو کمروں کا کنکریٹ سے بنا مکان بھی اسی کچرا پٹی کے پاس موجود ہے۔

منصور خان کی 38 سالہ اہلیہ لطیفہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہیں تو بس یہی فکر ہے کہ ان کے بچے کسی طرح اس وبا سے بچے رہیں۔ ان کے بچوں کی عمریں 11، 14 اور 16 سال ہیں۔

لطیفہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہیں واپسی کے وقت گھر میں داخل ہونے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں بچے کسی مرض میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

دہلی میں واقع تھنک ٹینک سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ کے بائیو میڈیکل ویسٹ کے ماہر دنیش راج بانڈیلا نے بتایا کہ بائیو میڈیکل فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے نیشنل پلوشن ریگولیٹر کا باقاعدہ وضع کردہ پروٹوکول ہے لیکن وبا کے دوران اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

دنیشن راج کے بقول ایسی صورت میں کچرا پٹی پر کام کرنے والوں میں ہیپاٹائٹس سے لے کر ایچ آئی وی تک تمام بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔

بانڈیلا کے مطابق نئی دہلی میں یومیہ 600 ٹن طبی فضلہ پیدا ہوتا تھا لیکن کرونا وائرس کے وبا پھیلنے کے بعد اس کی شرح میں 100 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG