رسائی کے لنکس

شہریت کے متنازع ترمیمی قانون پر آسام اور تریپورہ میں احتجاج کی نوعیت مختلف ہے: ماہرین


گوہاٹی میں مظاہرہ (فائل)

بھارتی پارلیمان کی جانب سے 10 دسمبر کو منظور ہونے والے شہریت کے ترمیمی بل کےخلاف ان دنوں آسام و تریپورہ سمیت بھارت میں ملک گیر مظاہرے ہو رہے ہیں، جب کہ ملک سے باہر کئی مقامات پر احتجاج جاری ہے۔

بھارتیہ لوک سبھا میں متنازع شہریت کے ترمیمی بل کی وضاحت کے دوران بھارتی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ہندو، مسلمان، جین، سکھ، پارسی اور بودھ مت کے چھ مذاہب کے ماننے والوں کو شہریت دیتے وقت جس بات کا خیال رکھا جائے گا اس میں ''معقول درجہ بندی'' کا اصول سرفہرست ہو گا۔

اس حوالے سے، امت شاہ نے کہا کہ یہ ترمیم آئین ہند کی شق 11 کے عین مطابق ہے، جس میں ''معقول درجہ بندی'' کی بات کی گئی ہے، جب کہ وفاق کو حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق، آئین میں ترمیم کرے۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی آئین میں مساوات اور سیکولرازم کی شقیں شامل ہیں، جب کہ متنازع شہریت کے ترمیمی بل کی منظوری کے بعد ان شقوں کا دفاع مشکل ہو سکتا ہے۔

مساوات اور سیکولر ازم سے متعلق جو شقیں بھارتی آئین کا حصہ ہیں وہ ہیں 14 اور 15؛ جب کہ شق 11 میں شہریت کے حصول کے طریقہ کار کا ذکر ہے۔

ناقدین نے بھارتی حکومت کے آئین کی شق 11 میں اضافہ کر کے اس کی ہیئت تبدیل کر دی ہے، چونکہ بل میں چھ مذہبوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ مذاہب ہیں ہندو، مسلمان، جین، سکھ، پارسی اور بدھ مت۔

تاہم، متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی گئی درجہ بندی معقول بنیاد پر وضع نہیں کی گئی، چونکہ یہ آئین میں موجود مساوات اور سیکولر ازم کی اساس سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس ضمن میں ماہرین، شق نمبر 14 اور 15 کا حوالہ دیتے ہیں۔

آئین کی شق 14 میں کہا گیا ہے کہ ریاست کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتے گی؛ جب کہ شق 15 میں آتا ہے کہ ''مذہب، ذات، جنس، جائے پیدائش، یا کسی بھی بنیاد پر'' کسی شہری کے ساتھ تفریق نہیں کی جائے گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ آئین ہند کی شق 15 میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت سیکولر ملک ہو گا؛ اور ترمیم سے اس اساس سے تصادم کی صورت دکھائی دیتی ہے۔

جہاں تک احتجاج کا تعلق ہے، ماہرین کے مطابق، ترمیمی بل پر دو طرح کا احتجاج سامنے آ رہا ہے؛ جو دونوں ہی ایک دوسرے کی نفی ہیں۔

پہلے قسم کا احتجاج قوم پرستی پر مشتمل ہے، جس پر حزب مخالف سیاسی جماعتیں سیخ پا ہیں۔ مسلمان تنظیمیں اور کئی ایک عام بھارتی جو یہ سمجھتے ہیں کہ ترمیمی بل بھارت کی سیکولر روایات کے منافی ہے، اور مسلمانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر تفریق برتنے کا مبینہ معاملہ ہے۔ یہ احتجاج زیادہ تر پر امن ہے، جس میں عدم تشدد اپنایا جا رہا ہے اور ماسوائے شمال مشرقی ریاست کے، ملک کی تمام ریاستوں میں یہ احتجاج پرامن ہے۔

دوسرے قسم کا احتجاج خاص طور پر آسام اور تریپورہ کی شمال مشرقی ریاستوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں، آسام اور تریپورہ میں ہونے والا احتجاج اس بات پر نہیں ہے کہ ترمیمی بل میں مسلمانوں کو کیوں علیحدہ رکھا گیا ہے؛ بلکہ یہ اس بات پر ہے کہ اس میں ہندووں کو کیوں شامل کیا گیا ہے۔ ان ریاستوں میں احتجاج کرنے والے غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ریاست سے نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔

آسام، تریپورہ، مغربی بنگال، میگھلایا اور میزو رام کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں۔ ان پانچ میں سے تین یعنی میگھالایا، میزو رام اور تریپورہ پر یہ ترمیمی بل لاگو ہی نہیں ہوتا۔

متنازع ترمیمی بل کے خلاف آسام اور تریپورہ کے کچھ حصوں میں پر تشدد احتجاج سامنے آیا ہے، جہاں 1972ء کی لڑائی کے دوران بنگلہ دیشی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد آسام اور تریپورہ میں آباد ہوئی۔ لیکن، ان غیر قانونی تارکین وطن، جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں، اس معاملے پر ان کی مخالفت موجود ہے، چونکہ ان کی موجودگی شناخت اور آبادی کو متاثر کرتی ہے۔ وہاں 'نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز' وضع کرنے کا مقصد اس تنازع کو حل کرنا تھا، جو بذات خود ایک بڑا موضوع بحث ہے۔

بھارت کے شہریت کے ترمیمی بل کے نتیجے میں آسام اور تریپورہ کے 11 لاکھ ہندو تارکین وطن بھارتی شہریت حاصل کر پائیں گے، جو اس سے قبل اپنی بھارتی شہریت ثابت نہیں کر سکے تھے۔

ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ یہ بل پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے مسلمانوں کو بھارتی شہریت کا اہل قرار نہیں دیتا؛ جو عام طریقہ کار کے تحت درخواست دے سکتے ہیں، جس میں دیگر شرائط کے علاوہ 12 سال کی دی گئی میعاد کا انتظار کرنا ہو گا۔

دوسری جانب، ناقدین 26 جنوری 1950 کو منظور ہونے والے آئین ہند کی دفعات 5، 10، 13، 14 اور 15 کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں، جن میں شہریت کے کوائف، 10 شہریت برقرار رکھنے، 13 میں بنیادی حقوق، 14 میں مساوات یا مساوی حقوق اور 15 میں کہا گیا ہے کہ ریاست کسی شہری کے ساتھ مذہب، نسل، ذات، جنس، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی بھی بنیاد پر کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کرے گی۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے متنازع شہریت بل کو فرقہ ورانہ اور مسلم مخالف قانون سازی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ''ہمیں تشویش ہے کہ بھارت کا نیا شہریت کا ترمیمی قانون بنیادی طور پر امتیازی سلوک پر مبنی ہے''۔ تنظیم نے کہا ہے کہ ''نیا قانون پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں کو جبر سے بچانے کے لیے شہریت دینے کی بات کرتا ہے، لیکن یہ سہولت مسلمانوں کو نہیں دیتا''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG