رسائی کے لنکس

گلگت بلتستان میں بھاشا ڈیم کے افتتاح پر بھارت کو اعتراض


وزیراعظم عمران خان بھاشا ڈیم کا افتتاح کرتے ہوئے۔
وزیراعظم عمران خان بھاشا ڈیم کا افتتاح کرتے ہوئے۔

بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے گلگت بلتستان میں دریائے سندھ پر دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے پاکستان کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر اور لداخ کا بڑا حصہ زیرِ آب آجائے گا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے جمعرات کو کہا کہ بھارت نے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے خلاف پاکستان کے ساتھ سخت انداز میں احتجاج کیا ہے۔ اس سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور لداخ کا بڑا حصہ غرقاب ہو جائے گا۔ ہم پاکستان کے غیر قانونی قبضے والے بھارتی علاقے میں تبدیلی کی پاکستان کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے ایک پریس بریفنگ میں مزید کہا کہ ”ہم پاکستان کے ناجائز قبضے کے تحت بھارتی علاقے میں ایسے تمام پروجکٹوں پر پاکستان اور چین دونوں کے سامنے مسلسل احتجاج اور اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان علاقوں پر ان ملکوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کے احتجاج کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے چین کے اشتراک سے بدھ کے روز اس ڈیم کا افتتاح کیا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔

یہ منصوبہ 29-2028 میں مکمل ہوگا۔ دیامیر بھاشا ڈیم میں 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی بدولت 12 لاکھ 30ہزار ایکڑ اضافی زمین سیراب ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پاکستان کا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا اور اس سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور اس سے 16000 روزگار فراہم ہوگا۔

نئی دہلی میں حکومت کے ذرائع نے کہا کہ پاکستان کے کنٹرول والے کشمیر کے خطے میں بھارت کا موقف ناقابل تبدیل ہے۔ مرکزی حکومت کے تحت آنے والے خطے جموں و کشمیر اور لداخ کا پورا علاقہ بھارت کا ناگزیر حصہ ہے۔ بھارت نے ہمیشہ ایسے پروجکٹوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

مئی میں جب چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حصے کے طور پر اس پروجکٹ کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت بھی وزارت خارجہ نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے ایک پریس بریفنگ میں بھارت کے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کا پورا علاقہ بھارت کا حصہ ہے اور اسے اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG