رسائی کے لنکس

logo-print

جمعے کے روز بھارت کے وزیر مالیات پی چدم برم نے قومی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کو اغلاط کا پلندہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

بھارتی حکومت نے اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حزب اختلاف کے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں ، جس کے باعث گذشتہ چار روز سے پارلیمنٹ کی کارروائی تعطل میں پڑی ہوئی ہے۔

حزب اختلاف کے ارکان، قومی آڈیٹر کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد سے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے 2004ء اور 2009ء کے عرصے میں کوئلے کی کان کنی کے علاقے پرائیویٹ کمپنیوں کو الاٹ کرتے وقت شفافیت اور ٹھیکوں میں مقابلے کے عمل کو ملحوظ نہیں رکھا۔

نیشنل آڈیٹر کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ان کمپنیوں کو 34 ارب ڈالر تک کانمایاں فائدہ ہوا جو سرکاری خزانے کو جاسکتا ہے۔

جمعے کے روز بھارت کے وزیر مالیات پی چدم برم نے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کو اغلاط کا پلندہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور امکانی نقصان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کوئلے کے الاٹ کیے گئے 57 علاقوں میں سے حقیقتا صرف ایک میں کان کنی کی گئی تھی۔

انہوں نے دہلی میں نامہ نگاروں سے کہا کہ اگر کوئلہ نکالا ہی نہیں گیا، اور اگر کوئلہ ابھی تک زمین کے اندر ہی موجود ہے تو پھر نقصان کہاں ہوا۔

وزیر مالیات نے یہ بھی کہا کہ حکمران کانگریس پارٹی ، بشمول وزیر اعظم من موہن سنگھ کی خواہش ہے کہ وہ پالیمنٹ میں جاکر آڈیٹر کی رپورٹ پر بحث مباحثہ کریں۔

انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ کو کام کرنے نہیں دے رہیں۔
XS
SM
MD
LG