رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں بیک وقت تین طلاقیں دینا جرم ہوگا: نیا قانون


بھارت میں مسلم خواتین کو بیک وقت تین طلاقیں دینا اب ایک سنگین جرم ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والے مسلمان شوہر کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

ایوانِ زیریں ’لوک سبھا‘ نے ’مسلم ویمن پروٹیکشن رائٹس آن میرج بل2017‘ کے نام سے پیش کئے جانے والے بل کو منظور کر لیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق، اِس قانون کی رو سے جو بھی مسلمان مرد اپنی بیوی کو ایک وقت میں تین طلاقیں دے گا اسے ناصرف اس قانون کے مطابق سزا ملے گی بلکہ یہ ''ناقابل ضمانت'' جرم بھی شمار ہوگا۔

خلاف ورزی کرنے والے کو تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، جبکہ اسے جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ تاہم، ابھی یہ بل بھارت کے ایوان بالا ’راجیہ سبھا‘ میں پیش ہونا باقی ہے۔

’بل ’شریعت میں مداخلت‘ ہے، مسلم تنظیمیں
بھارت میں اس بل کو مسلمانوں کی جانب سے ایک طویل عرصے سے مخالفت کا سامنا تھا۔ اب قانون بننے کے بعد بھی بھارتی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس بل کو ’شریعت میں مداخلت‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

بل وزیر قانون روی شنکر نےپیش کیا تھا۔ مسلمانوں کی جانب سے اس بل کی مخالفت پر اپنے رد عمل میں ان کا کہنا تھا کہ ''یہ خواتین کے وقار کا سوال ہے۔ ہم شریعت میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ اس بل کو مذہب کے ترازو پر نہ تولا جائے۔ یہ بل ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و آبرو کا بل ہے۔ یہ بل مسلم خواتین کو ان کا حق دلانے کی کوشش ہے۔''

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیاسی جماعت ’انڈین مسلم یونین لیگ‘ کے رہنماؤں نے اتوار کو اس بل کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے کہ ''اگر راجیہ سبھا بھی اس بل کو منظور کرلیتی ہے تو تمام مسلم تنظیمیں اس کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گی''۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بل میں بہت سی خامیاں ہیں جبکہ بہت سے مسائل حل طلب ہیں مثال کے طور پر اگر تین طلاقیں دینے والا شوہر جیل چلا جاتا ہے تو اس کی بیوی اور بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا۔

مخالفت کے باوجود، اتوار کو ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ ''کئی سال تک مسائل کا سامنا کرنے والی مسلمان خواتین کو آخر کار خود کو اس رسم سے دور ہونے کا موقع مل گیا۔''

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG