رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر پاکستان اور بھارت کا باہمی تنازع ہے، برطانوی وزیرِ اعظم


برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کو ایک ایسے مسئلے کے طور پر دیکھتا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے برطانوی ہم منصب بورس جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے کشمیر کی حالیہ صورتِ حال پر گفتگو کی ہے۔

اس موقع پر برطانوی وزیرِ اعظم نے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ کشمیر کے معاملے کو ایک ایسے مسئلے کے طور پر دیکھتا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے جسے باہمی مذاکرات سے ہی حل کیا جانا چاہیے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارتی اور برطانوی وزرائے اعظم کے درمیان منگل کو ہونے والی اس گفتگو میں لندن میں بھارتی سفارت خانے کے باہر ہونے والے احتجاج پر بھی بات چیت ہوئی۔

گزشتہ ہفتے لندن میں بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر سینکڑوں افراد نے بھارتی سفارت خانے کے باہر کشمیر کی ریاستی حیثیت کے خاتمے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔
جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔

بھارت میں برسرِ اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے لندن میں ہونے والے مظاہرے کے بعد الزام لگایا تھا کہ مظاہرین نے بھارتی خواتین اور بچوں پر انڈے اور بوتلیں برسائیں، سفارت خانے میں توڑ پھوڑ کی بھی کوشش کی جب کہ برطانوی حکام اُن کے تحفظ میں ناکام رہے۔

نریندر مودی نے بورس جانسن سے گفتگو میں کشمیر کی ریاستی حیثیت کے خاتمے کے خلاف ہونے والے مظاہرے سے متعلق کہا کہ چند مفاد پرست عناصر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پر تشدد طریقوں کا استعمال کر رہے تھے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق بورس جانسن نے لندن میں ہونے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور نریندر مودی کو بھارتی ہائی کمشن اور اس کے عملے کی سیکورٹی اور تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے۔ بھارت نے رواں ماہ کشمیر کو حاصل خصوصی ریاستی حیثیت کا خاتمہ کیا تھا جس کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

پاکستان بھی کشمیر کے معاملے پر بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیر کا معاملہ پورے خطّے کا مسئلہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے جب کہ بھارت اسے دو ملکوں کا باہمی مسئلہ قرار دیتا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات ہے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات ہے۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات اس وقت ہی ممکن ہیں جب پاکستان اپنی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے جب کہ پاکستان بھارت کے اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کی زمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم نے بورس جانسن سے گفتگو میں دہشت گردی کے معاملے پر بھی گفتگو کی ہے۔ اس موقع پر نریندر مودی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی بھارت اور یورپی ممالک کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

نریندر مودی نے بورس جانسن کو برطانیہ کا وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارک باد بھی دی جب کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں باہمی اور تجارتی تعلقات مزید بہتر کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG