رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی صدر کی تنازعِ کشمیر پر ثالثی کی پھر پیشکش


فائل فوٹو

تنازع کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش کا اعادہ کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔

وائٹ ہاؤس میں منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اختتامِ ہفتہ ان کی فرانس میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات ہو گی جس کے دوران وہ کشمیر کا معاملہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آئیں۔"

صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان سے بھی حال ہی میں ان کی ملاقات ہو چکی ہے۔

ان کے بقول سچ یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں صورتِ حال بہت ہی کشیدہ ہے۔ دونوں ملکوں کی طویل عرصے سے آپس میں نہیں بنتی اور یہ کوئی ہلکی پھلکی لڑائی نہیں بلکہ اس میں بھاری اسلحہ استعمال ہوتا رہا ہے۔

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات سلجھانے کی پیش کش کر چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی کشمیر پر کردار ادا کرنے کی دوبارہ پیشکش
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:37 0:00

انہوں نے کہا کہ ان کے دونوں رہنماؤں سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ان کے بقول "اُن کی آپس میں نہیں بنتی۔"

صدر ٹرمپ کے مطابق مسئلہ کشمیر کی بڑی وجہ مذہب ہے اور مذہبی معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں۔ کشمیر میں بسنے والے لاکھوں افراد کسی دوسرے کی حکمرانی چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو عشروں سے جاری ہے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں۔

عمران خان نے صدر کی اس پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر کا یہ اقدام برصغیر کے ڈیڑھ ارب انسانوں پر احسان ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پیش کش میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی خواہش کا ذکر کیا تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو ثالثی پر مائل کیا۔ بھارت کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کی گئی تھی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں صورتحال تاحال معمول پر نہیں آ سکی۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں صورتحال تاحال معمول پر نہیں آ سکی۔

بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ 1972 کے شملہ معاہدے اور 1999 کے اعلان لاہور کے مطابق پاکستان اور بھارت باہمی تنازعات دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنے کے پابند ہیں۔

خیال رہے کہ پانچ اگست کو بھارت نے اپنے آئین میں جموں و کشمیر سے متعلق آئین کی شقیں 370 اور 35 اے ختم کر دی تھیں جس سے بھارتی کشمیر کو حاصل نیم خود مختار حیثیت ختم ہو گئی تھی۔ پاکستان نے بھارتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ پہلے سلامتی کونسل اور اب عالمی عدالت انصاف میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی عروج پر ہے اور لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کے اطراف فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب سے جانی نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

جمعے کو وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے بارہ منٹ تک ٹیلی فون پر بات کی تھی جس میں پاکستانی حکام کے مطابق جموں و کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ثالثی کی پیش کش صرف اسی صورت میں کی ہے اگر دونوں ممالک یہ پیش کش قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق بھارت کشمیر کے معاملے پر نہایت حساس ہے اور اسے اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔

جموں و کشمیر میں 16 روز بعد بھی حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ مواصلاتی رابطے اور لوگوں کی نقل و حمل پر اب بھی پابندیاں عائد ہیں۔ بھارتی حکومت کے ترجمان روہت کنسال کا دعویٰ ہے کہ وادی سے بتدریج پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں۔ ہزاروں ٹیلی فون لائنز بھی بحال کر دی گئیں ہیں، جب کہ نقل و حمل پر پابندیاں بھی کم کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG