رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی خطرناک دوڑ: پہلا حصہ


بھارت کے یومِ جمہوریہ پر میزائلوں کی نمائش

(شبّیر جیلانی) پاکستان میں نواز شریف حکومت نے اپنا پانچواں بجٹ پیش کر دیا ہے۔اس بجٹ میں دفاعی اخراجات میں لگ بھگ 9 فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ یوں دفاعی بجٹ کیلئے کل 9.2 ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے جو ملک کے GDP کے 2.3 فیصد کے برابر ہے۔ اُدھر بھارت نے بھی اس سال فروری میں 2017-18 کیلئے دفاعی بجٹ کا اعلان کیا جو 53.5 ارب ڈالر ہے۔ یہ بھارت کے GDP کا 1.56 فیصد ہے۔ تاہم بھارت کا GDP پاکستان کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ ہے۔بھارت کی معیشت مسلسل سات فیصد سے زائد شرح کے ساتھ ترقی کر رہی ہے جبکہ پاکستان کی معیشت مسلسل بحرانوں کا شکار رہنے کے باعث ترقی کی شرح محض 4-4.5 کے درمیان ہی رہی ہے۔

جنوبی ایشیا کے ان دونوں ملکوں کے دفاعی اخراجات کے بارے میں دنیا بھر میں بالعموم اور امریکہ اور چین میں بالخصوص بے پناہ دلچسپی پائی جاتی ہے جس کی کلیدی وجوہات میں دونوں ملکوں کا ایٹمی قوت ہونا اور اس خطے میں موجود دیگر سیکورٹی خدشات ہیں۔ اعدادوشمار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارت جدید اسلحہ کی خریداری کے سلسلے میں زیادہ وسائل رکھتا ہے جبکہ پاکستان کو اپنی دفاعی ضروریات کیلئے امریکہ اور چین کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان اور بھارت کے مابین دو جنگیں اور کرگل کا معرکہ ہو چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں سیکورٹی کے خدشات بدستور موجود ہیں ، دفاعی اخراجات اور جدید اسلحہ کی خریداری میں بڑی حد تک مقابلہ بازی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافے کی اصل وجہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ ہے یا پھر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔ اس سلسلے میں پہلے بھارت کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں۔

بھارت میں دفاعی حکمت عملی کے دو اہم پہلو دکھائی دیتے ہیں جن میں دفاعی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مقابلہ بازی شامل ہیں۔ رواں مالی سال کے دفاعی بجٹ کی تفصیلات واضح طور پر ان دونوں پہلوؤں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ سب سے پہلے تو بھارتی مسلح افواج کے پاس موجودفرسودہ اسلحے کی جگہ فوج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ موجودہ اسلحے کی فرسودگی کو ختم کیا جا سکے۔ یوں اس کی جگہ خریدا گیا نیا اسلحہ زیادہ جدید ہو گا جس سے دفاعی صلاحیت بھی بہتر ہو گی۔ تاہم دفاعی ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فرسودگی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے لڑاکا ہتھیاروں کی اشد ضرورت ہو گی جو بھارت کی حربی صلاحیت کے معیار کو بھی بلند درجے تک لیجا سکے۔بھارت کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انیلسز سے وابستہ دفاعی امور کے ماہر ریٹائرڈ بریگیڈئر گرمیت کنول کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت مؤخر الذکر اقدام کا متحمل نہیں ہو پا رہا کیونکہ فی الوقت تمام دستیاب دفاعی وسائل اسلحے کی فرسودگی کو ختم کرنے پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی موجودہ حکومت نے حربی صلاحیت کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کچھ کوششیں شروع تو کی ہیں لیکن اُن کی رفتار انتہائی سست ہے۔

بھارتی فضایہ کا SU-30MKI لڑاکا طیارہ
بھارتی فضایہ کا SU-30MKI لڑاکا طیارہ

اگر بھارت کی دفاعی خریداری کے رجحان کو دیکھا جائے تو جدید اسلحے کے حصول کے زیادہ تر اقدامات توپ خانے کے شعبے میں دکھائی دیتے ہیں۔1986 میں بوفرز 155 بھاری توپیں متعارف کرائے جانے کے بعد اس سال امریکہ سے سینکڑوں جدید ترین M777 توپوں کے آرڈر دئے جا چکے ہیں۔ تاہم اب بھی کئی ہزار فرسودہ بوفر گنز توپ خانے کا حصہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ MBT ٹینک اور فضائیہ کے مگ 27 خاصی حد تک فرسودہ ہو چکے ہیں اور اُن کی جگہ جدید تر ٹینکوں اور جہازوں کے حصول کیلئے خاطر خواہ کوششیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ اسی طرح امریکہ سے جدید ترین گلوب ماسٹر، اپاچی، چنوک اور روس سے کیموف ہیلی کاپٹروں کے معاہدے ہو چکے ہیں لیکن اُنکی ترسیل ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ تاہم زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگنی VI میزائلوں کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایک یا دو سال کے اندر یہ فوج کے حوالے کر دئے جائیں گے۔ ان میزائلوں کی فراہمی کے بعد کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فارغ کر دئے جائیں گے۔ 3,500 کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک مزائل جانچ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور جلد ہی فوج کے حوالے کر دئے جائیں گے۔

بھارت نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اسٹریٹجک پلاننگ شعبہ تشکیل دے دیا ہے اور جوہری ہتھیاروں کو 5,000 کلومیٹر دور تک لیجانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا کام بھی جاری ہے۔

ان تمام اقدامات کے باوجود بظاہر بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل سے متعلق بیانیے میں فی الوقت کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔ تاہم پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلے بازی کی فضا بھی بدستور موجود ہے۔ لیکن کشمیر کے معاملے میں بھارت کی حکمت عملی واضح طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ بھارت میں تاثر یہ ہے کہ بھارتی کشمیر میں جاری مزاحمت اب ’پراکسی وار ‘ نہیں رہی اور مبینہ طور پر اس میں پاکستان ’براہ راست ملوث ‘ ہو چکا ہے۔لہذا بھارت اب کشمیر میں جارحانہ انداز اختیار چکا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس اوڑی میں ایک بھارتی فوجی اڈے پر حملے کے بعد بھارت نے دعویٰ کیا کہ اُس کی فوج نے کنٹرول کے پار پاکستانی کشمیر کے علاقے میں سرجیکل اسٹرائیکس کیں تاہم پاکستانی فوج نے اس سے انکار کیا ہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کا دعویٰ درست ہے تو اُسے اس کا ثبوت پیش کرنا چاہئیے لیکن وہ اب تک ایسا نہیں کر پایا ہے۔

بھارتی دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ جامع مزاکرات بھی اُس وقت تک منقطع رکھے جائیں گے جب تک بقول اُس کے سرحد پار سے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا۔لیکن غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے رویے میں اس تبدیلی کی ایک وجہ پاکستان کی چین سے بڑھتی ہوئی قربت بھی ہے۔ بھارت میں پاکستان۔چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بارے میں خاصی پریشانی پائی جاتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG