رسائی کے لنکس

logo-print

تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارت مشترکہ جنگی مشقیں کریں گے: رپورٹ


شنگھائی تعاون تنظیم (فائل)

روس میں آئندہ جمعے کو ہونے والی فوجی مشقوں میں پاکستان، بھارت اور چین کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے فوجی بھی شرکت کریں گے۔

ان مشقوں کا مقصد دہشت گرد گروپوں سے نمنٹنے اور دہشت گردانہ حملوں کے خلاف اپنائی جانے والی حکمت عملی کی تربیت پر زور دینا ہے۔

مشقوں میں روس کے 1700 چین کے 700 اور بھارت کے 200 فوجی شرکت کریں گے۔ 'وارگیمز' میں مجموعی طور پر 3000 فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

بھارتی اور پاکستانی فوجیوں نے ماضی میں کبھی بھی کسی بھی ایسی کثیر ملکی یا ایسی جنگی مشقوں میں شرکت نہیں کی، جس میں پاکستانی فوجی بھی موجود ہوں۔ یہ ضرور ہے کہ دونوں ملکوں کے فوجی اقوام متحدہ کے مشنز اور آپریشنز میں ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم2001ء میں چین، قازقستان، کرغیزستان، روس اور تاجکستان نے قائم کی تھی۔ تنظیم کے اب آٹھ باقاعدہ ارکان ہیں جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ چار ممالک مبصر ہیں، جبکہ چھ ملک ڈائیلاگ پارٹنر ہیں۔

ان فوجی مشقوں میں بھارت کی شمولیت کا باضابطہ اعلان بھارتی وزیر دفاع نرملہ سیتارامن نے کیا تھا۔

روس کے یورال پہاڑوں پر منعقد کی جانے والی 'امن مشن2018' نامی فوجی مشقیں اگست کے آخر میں شروع ہو کر ستمبر کے پہلے ہفتے میں ختم ہوں گی۔

ہر دو سال بعد منعقد ہونے والی کثیر ملکی فوجی مشقوں کا 'امن مشن 2018' پانچواں ایڈیشن ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG