رسائی کے لنکس

logo-print

نئی دہلی اور اسلام آباد میں پاکستانی، بھارتی اہلکاروں کی طلبی، احتجاج


نئی دہلی: پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے تعینات بھارتی پولیس۔

بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے ناظم الامور حیدر شاہ کو بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کیا؛ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کے مبینہ اغوا اور ان پر تشدد کے معاملے پر شدید احتجاج کیا گیا۔

دوسری جانب، پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سفارت خانے کے اہلکار حادثہ کرکے فرار ہونے کی کوشش اور جعلی کرنسی رکھنے میں پوری طرح ملوث تھے۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ''15 جون کو پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھارتی ہائی کمیشن کے دو اہل کاروں کو مبینہ طور پر زبردستی اغوا کیا اور انہیں 10 گھنٹے تک غیر قانونی تحویل میں رکھا۔ بعد میں بھارتی ہائی کمیشن اور بھارتی وزارت خارجہ کی مداخلت پر انہیں رہا کیا گیا''۔

بھارت نے الزام لگایا ہے کہ ''ان دونوں اہل کاروں پر تفتیش کے دوران تشدد کیا گیا اور جسمانی طور پر انہیں چوٹیں لگیں''۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، ''ان کی ویڈیو بنائی گئیں اور انہیں من گھڑت الزامات کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ہائی کمیشن کی جس گاڑی میں یہ اہل کار سوار تھے، اس کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے''۔
بھارتی وزارت خارجہ کے پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ''اس واقعے کی بھارتی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ان سوچے سمجھے، اشتعال انگیز اقدامات کا مقصد اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے معمول کے کاموں میں رخنہ اندازی کی کوشش ہے''۔

ساتھ ہی، اس میں کہا گیا ہے کہ ''پاکستانی حکام نے جو من گھڑت الزامات عائد کیے ہیں، ان کو مکمل طور سے رد کیا جاتا ہے"۔

دوسری جانب، پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''دونوں اہلکار ایک عام شہری کو ایکسیڈنٹ میں زخمی کرنے اور اس کے بعد فرار ہونے کی کوشش میں ملوث ہیں۔ ان اہلکاروں کے قبضے سے پاکستانی جعلی کرنسی بھی برآمد ہوئی ہے''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''بھارتی وزارت خارجہ کا بیان حقائق کو مسخ کرنے اور سنگین جرائم میں ملوث اپنے اہلکاروں کے جرائم کو چھپانا ہے''۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ''بھارتی ہائی کمیشن کے دو اہلکار دامو برہما اور سلواداس پال گاڑی مقررہ رفتار سے زیادہ تیز چلا رہے تھے اور اس دوران انہوں نے ایک پیدل چلنے والے کو نشانہ بنایا۔ اس واقعہ میں ایک شہری شدید زخمی ہوا جسے اسپتال میں طبی امداد دی گئی۔ واقعہ کے بعد دونوں اہلکاروں نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، وہاں موجود لوگوں نے اسے ناکام بنا دیا اور پولیس کو اطلاع دی''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''دونوں اہلکاروں سے تفتیش کے دوران ان کے قبضے سے جعلی پاکستانی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔ بعد میں دونوں افراد کا تعلق بھارتی ہائی کمیشن سے ثابت ہونے پر انہیں رہا کردیا گیا اور ایک سینئر بھارتی سفارتکار کے حوالے کیا گیا''۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ''ایسے جرائم میں ملوث ہونا سفارتی آداب کے منافی ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار ویانا کنونشن کے مطابق سفارتی آداب کا خیال رکھیں''۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''بھارتی وزارت خارجہ کے تمام الزامات بے بنیاد اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے مسلمانوں پر مبینہ مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، بی جے پی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں اور یک طرفہ اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، بھارت خطے میں امن کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے''۔
بھارت نے بھی پاکستان کے اقدامات کو جینوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی، اور سفارتی آداب کے منافی قرار دیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ''یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہائی کمیشن کے عملے اور ان کے خاندان اور املاک کی حفاظت کرے۔ پاکستان کی جانب سے اس طرح کے متواتر یک طرفہ اقدامات سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور وہ اصل مسئلے سے توجہ کسی دوسری جانب مبذول کرانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ اس کی مسلسل معاندانہ اقدامات اور بھارت کے خلاف سرحد پار دہشت گردی ہے''۔

پندرہ جون کو ہوا کیا تھا؟

گذشتہ روز بھارتی میڈیا اور اس کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمشن میں تعینات دو اہل کار پیر کو اسلام آباد سے لاپتا ہو گئے ہیں۔ اور بھارتی حکام نے یہ معاملہ پاکستانی حکام کے سامنے اٹھایا ہے۔ اس کے کئی گھنٹوں کے بعد پاکستانی میڈیا کے ذریعے خبر سامنے آئی کہ بھارتی ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو اسلام آباد کی سیکرٹریٹ پولیس نے ایک راہگیر کو ٹریفک حادثہ میں زخمی کرنے پر گرفتار کرلیا ہے۔

شام کو اسلام آباد پولیس نے اس معاملہ پر باضابطہ ایف آئی آر درج کی اور اس دوران دفتر خارجہ کی سطح پر بھارتی ہائی کمیشن اور بھارتی وزارت خارجہ کے رابطوں کے بعد دونوں اہلکاروں کو رہا کردیا گیا تھا۔ تاہم، اس بارے میں بھارت اور پاکستان دونوں نے ایک روز کے بعد بیانات جاری کیے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت نے نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشن کے ویزا سیکشن میں کام کرنے والے دو اہل کاروں پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا اور مبینہ طور پر اُنہیں حراست میں لے کر ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک سے بے دخل کر دیا تھا۔

پاکستان نے بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی تھی۔ یہ معاملہ ایک ایسے وقت سامنے آیا تھا جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جس کے اثرات دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات سے بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG