رسائی کے لنکس

بھارت اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ، امریکہ اور روس میں کمی


فائل فوٹو

دنیا بھر میں جوہری اور روایتی ہتھیاروں کی صورت حال پر نظر رکھنے والے سوئیڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اگرچہ مجموعی طور دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے لیکن تمام جوہری ممالک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو جدید بنانے کے لیے گامزن ہیں۔

پیر کو جاری ہونے والی 'سپری' کی رپورٹ کے مطابق نو جوہری ممالک امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس جنوری 2020 تک مجموعی جوہری ہتھیاروں کی تعداد 13 ہزار 400 تھی جب کہ یہ تعداد پچھلے سال 2019 کے مقابلے میں کم ہے جو کہ 13 ہزار 865 تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں چین کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 290 تھی۔ جو رواں سال جنوری میں بڑھ کر 320 ہو گئی ہے جب کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد اس عرصے میں 160 ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 میں پاکستان کے پاس 150 سے 160 جوہری ہتھیار تھے۔

دوسری طرف جنوبی ایشیا کے دوسرے جوہری ملک بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد رواں سال جنوری تک 150 کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ 2019 میں بھارت کے پاس 130 سے 140 جوہری ہتھیار تھے۔

'سپری' کی رپورٹ کے مطابق چین، بھارت اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہیں۔ جنہوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں نہ صرف اس عرصے میں اضافہ کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ ملک اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

اگرچہ دنیا کے بعض دیگر ممالک کی نسبت پاکستان اور بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد کم ہے لیکن 'سپری' کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت اپنے جوہری ہتھیاروں کے سائز اور تنوع میں آہستہ آہستہ اضافہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2019 کے مقابلے میں امریکہ اور روس کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین، بھارت اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہتھیاروں کو جدید بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ (فائل فوٹو)
رپورٹ کے مطابق چین، بھارت اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہتھیاروں کو جدید بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے پاس اس وقت پانچ ہزار 800، روس کے پاس چھ ہزار 375، فرانس کے پاس 290 اور برطانیہ کے پاس 215 جوہری ہتھیار ہیں جب کہ مشرق وسطیٰ کے ملک اسرائیل کے پاس 90 اور شمالی کوریا کے پاس 30 سے 40 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ روس اور امریکہ کے مقابلے میں دیگر جوہری ممالک کے ہتھیاروں کی تعداد کم ہے لیکن یہ تمام ممالک بشمول چین یا تو نئے جوہری اسلحے کے نظام کو ترقی دے رہے ہیں جب کہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں نصب بھی کر رہے ہیں یا وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی سلامتی امور کے تجزیہ کار ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ عمومی طور کہا جاتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں ان کی تعداد اتنی اہم نہیں بلکہ ان کی صلاحیت اہمیت کی حامل ہے۔

ان کے بقول دنیا کے بعض بڑے جوہری ممالک بشمول امریکہ اور روس اپنی جوہری صلاحیت کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ حریف ممالک کے ساتھ جوہری طاقت کا توازن برقرار رکھا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سپری' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس اور امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا میں مجموعی طور پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی کمی سے متعلق طے پانے والے 'نیو اسٹارٹ' معاہدے کے تحت واشنگٹن اور ماسکو نے 1950 کی دہائی میں بنائے جانے والے ہتھیاروں کو نہ صرف تلف کیا ہے بلکہ بعض کو دیگر جگہوں پر نصب کیا ہے۔

ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا کے اکثر جوہری ممالک کی توجہ تعداد میں اضافے کے بجائے ہتھیاروں کی صلاحیت کو جدید اور نظام کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے جب کہ ماضی کی نسبت اب جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں بہتری آ رہی ہے۔

جنوبی ایشیا کے دوسرے جوہری ملک بھارت کے ہتھیاروں کی تعداد رواں سال جنوری تک 150 کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ 2019 میں اس کے پاس 130 سے 140 جوہری ہتھیار تھے۔ (فائل فوٹو)
جنوبی ایشیا کے دوسرے جوہری ملک بھارت کے ہتھیاروں کی تعداد رواں سال جنوری تک 150 کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ 2019 میں اس کے پاس 130 سے 140 جوہری ہتھیار تھے۔ (فائل فوٹو)

تجزیہ کار ظفر جسپال نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق اب تک سامنے آنے والے اعداد و شمار میں ایک رجحان صاف نظر آتا ہے۔

ان کے بقول شروع میں 'سپری' نے کہا کہ پاکستان کے پاس 60 جوہری ہتھیار ہیں جب کہ بھارت کے پاس 50 ہیں اور ہر سال دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں میں 10 ہتھیاروں کا اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اسی لیے تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جوہری ہتھیار 160 ہیں۔ جب کہ بھارت کے پاس 140 سے 150 کے قریب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سپری' نے کبھی بھی ان ہتھیاروں کی اور نہ ہی انہیں لے جانے والے نظام کی کوئی تفصیل بیان کی ہے کیونکہ 'سپری' کی رپورٹ غیر سرکاری معلومات اور اندازوں پر مبنی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اور نئی دہلی نے کبھی بھی 'سپری' کی رپورٹ پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG