رسائی کے لنکس

پاکستانی و بھارتی صحافیوں کا ویزا پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ


پاکستانی و بھارتی صحافیوں کا ویزا پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ
پاکستانی و بھارتی صحافیوں کا ویزا پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

پاکستان اور بھارت کے صحافیوں نے باہمی رابطے بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاجروں کی طرح صحافیوں کو بھی 'نان رپورٹنگ ویزوں' کا اجرا یقینی بنائیں۔

بھارتی صحافیوں کا ایک 22 رکنی وفد ان دنوں پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی کے دورے پر ہے جہاں وفد کے اراکین نے مقامی صحافیوں ، حکومتی عہدیداران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے علاوہ کئی سماجی تقریبات میں بھی شرکت کی۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئے وفد کے سربراہ اور 'ممبئی پریس کلب' کے صدرپرکاش آکولکر نے بتایا کہ کراچی آنے کے بعد پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔

ان کے بقول، "یہاں سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا ہم بھارت میں چھوڑ آئے ہیں۔ ویسے ہی راستے، ویسے ہی لوگ، ویسے ہی شہر اور ویسے ہی جرائم۔ ہمیں کچھ مختلف نہیں لگا۔ لیکن یہاں آکر پاکستان کے بارے میں وہ غلط فہمیاں اور خدشات دور ہوگئے ہیں جو ہمارے ذہنوں میں تھے"۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی عوام امن اور ویزا پابندیوں میں نرمی چاہتے ہیں جس پر حکومتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آکولکر نے بتایا کہ وہ دورے کے دوران پاکستان کے دیگر شہر بھی دیکھنا چاہتے تھے لیکن ان کے وفد کو صرف کراچی اور حیدرآباد کا ویزا جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں تاجروں کی طرح صحافیوں کو بھی 'نان رپورٹنگ' ویزے جاری کریں تاکہ اخبار نویسوں کے روابط اور تعلقات میں اضافہ ہوسکے اور ایک دوسرے کے بارے میں بے بنیاد خدشات کا ازالہ ہو۔

بھارتی وفد کے دورے کے دوران 'کراچی پریس کلب' اور 'ممبئی پریس کلب' کے درمیان ایک مفاہمتی یاد داشت پر دستخط بھی کیے گئے جس میں دونوں ممالک کے حوالے سے رپورٹنگ کے دوران مناسب زبان استعمال کرنے اور اشتعال انگیز الفاظ سے گریز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

یاد داشت کے تحت دونوں ممالک کے صحافیوں کے مابین تعاون بڑھانے کی غرض سے ہر دوسرے برس صحافیوں کے وفود کے تبادلے اور نوجوان صحافیوں کو سرحد پار تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں وفد کے ایک رکن اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کی پارلیمان کی خبر نگاری کرنے والے صحافیوں کی انجمن 'سیکریٹریٹ اینڈ لیجسلیٹر ایسوسی ایشن' کے جنرل سیکریٹری سریندرا پی گانگن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے صحافیوں کو ایک جیسے مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرکے ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ 'آزدی صحافت' کے لیے پاکستانی صحافیوں کی قربانیاں اور جدوجہد بھارتی صحافیوں سے بہت زیادہ ہیں جس کے دوران کئی پاکستانی صحافیوں کو اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

تاہم سریندرا کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی صحافیوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران صرف ریاست مہاراشٹر میں صحافیوں 172 حملے رپورٹ ہوئے ہیں جو،ا ن کے بقول، ایک انتہائی تشویش ناک بات ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی انجمن ریاستی اسمبلی سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وفد کی ایک رکن اور معروف بھارتی روزنامے 'ٹائمز آف انڈیا' سے منسلک خاتون صحافی انا ہییتھن مکھرجی نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ پاکستان آنے کے بعد ان کے خیالات میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور، ان کے بقول ، انہیں پاکستان میں اجنبیت کا بالکل احساس نہیں ہوا۔

"میرے پاکستان آنے سے قبل ہر کوئی مجھے ڈرا رہا تھا کہ وہاں مت جاؤ۔ وہ لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور وہ دیس ٹھیک نہیں۔ لیکن جب ہم یہاں پہنچے اور پھولوں سے ہمارا استقبال ہوا تو ہمیں بڑی حیرانی اور خوشی ہوئی"۔

مکھرجی کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں پار بسنے والے لوگ ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں لیکن ویزا پابندیوں کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ ان کے بقول صحافیوں کے تبادلے اور عوامی روابط بڑھا کر دونوں ممالک کے درمیان موجود بدگمانیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔

وفد کے شریک میزبان اور 'کراچی یونین آف جرنلسٹ' کے صدر عامر لطیف نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں بھارتی وفد کے دورےکو ایک "خوشگوار آغاز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد پاکستانی صحافیوں کا ایک وفد بھی بھارت کا دورہ کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے اہلِ صحافت کے درمیان مستقل تعلق قائم کیا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG