رسائی کے لنکس

بھارتی صحافی چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار


فائل فوٹو

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی پولیس نے ایک مقامی صحافی کو چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پولیس نے ہفتے کو اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کیے گئے صحافی نے چین کے خفیہ ادارے کے افسر کو حساس معلومات فراہم کی تھیں۔

دہلی پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ 61 سالہ راجیو شرما کو رواں ہفتے حراست میں لیا گیا تھا۔ جن کے گھر سے وزارتِ دفاع کی حساس دستاویزات بھی تحویل میں لی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق راجیو شرما فری لانس صحافی ہیں جو گزشتہ 40 برس سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

راجیو شرما کی گرفتاری کے بعد جاسوسی کے الزام میں ایک چینی خاتون اور اس کے نیپالی ساتھی کو بھی گرفتار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

گرفتار کیے گئے افراد سے ایک بڑی رقم بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ رقم ان افراد کو حساس معلومات کا تبادلہ کرنے پر ادا کی گئی تھی۔

'رائٹرز' کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

دوسری جانب گرفتار افراد کے وکلا کے بیانات بھی سامنے نہیں آئے۔

دہلی کی پولیس کے ڈپٹی کمشنر سنجیو کماد یادیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تفتیش کے دوران راجیو شرما نے حساس معلومات کے حصول اور پھر یہ معلومات چینی رابطہ کار کو فراہم کرنے کی تفصیلات دی ہیں۔

واضح رہے کہ دہلی میں یہ گرفتاریاں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب لداخ میں سرحد پر بھارت اور چین میں کشیدگی جاری ہے۔ اس کشیدگی میں ایک جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ البتہ چین نے اپنے ہلاک یا زخمی ہونے والے فوجیوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صحافی راجیو شرما کو حالیہ برسوں کے دوران ہدف دیا گیا تھا کہ وہ دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ چین اور بھارت کی سرحد کے حوالے سے معلومات فراہم کریں۔

پولیس کے مطابق جنوری 2019 سے ستمبر 2020 کے درمیان راجیو شرما نے اپنے چینی رابطہ کار سے 30 لاکھ روپے (40 ہزار ڈالرز) سے زائد رقم وصول کی تھی۔

خیال رہے کہ بیجنگ سے کشیدگی کے بعد بھارت میں چین کی کئی موبائل ایپلی کیشنز پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ جب کہ چین کی کمپنیوں کے لیے بھارت میں سرمایہ کاری کو بھی مشکل بنایا جا رہا ہے۔

صحافی کی گرفتاری پر پریس کلب آف انڈیا کا ردِ عمل

پریس کلب آف انڈیا نے اپنے ایک بیان میں راجیو شرما کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز اقدام قرار دیا ہے۔

پریس کلب آف انڈیا کے صدر اور سینئر صحافی اننت بگائیتکر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر پولیس یا کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کے پاس کوئی اطلاع ہے تو وہ کسی بھی صحافی کو گرفتار کر سکتی ہے۔ لیکن اسے گرفتاری کی اطلاع پریس کونسل آف انڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کی سیلف ریگولیٹری باڈی کو دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ راجیو شرما کو 14 ستمبر کو گرفتار کیا گیا اور پولیس نے اس کی اطلاع 19 ستمبر کو دی۔ پانچ روز تک اس گرفتاری کے بارے میں کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

پریس کلب آف انڈیا کے بیان میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ریکارڈ کو مشکوک اور غیر معتبر قرار دیا گیا ہے۔

انت بگائیتکر نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں جو واقعات پیش آئے ہیں اس کے تناظر میں مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے واقعات میں پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار 'دی گلوبل ٹائمز' نے اتوار کو اپنے اداریے میں راجیو شرما کی گرفتاری سے خود کو دور رکھا اور الزام عائد کیا کہ بھارت نے اس گرفتاری کے سلسلے میں اخبار کو منفی انداز میں پیش کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG