رسائی کے لنکس

logo-print

گرفتار پولیس اہلکار بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہا تھا؟


دیویندر سنگھ

جمعرات کو جموں کی ایک خصوصی عدالت نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس افسر، دیویندر سنگھ کو دس روزہ ریمانڈ پر بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی، این آئی اے کے حوالے کر دیا۔

ان کے ساتھ، عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے مشتبہ کمانڈر، سید مشتاق نوید شاہ عرف نوید بابو عرف بابر اعظم، اُس کے قریبی ساتھی آصف احمد راتھر، سید مشتاق کے بھائی سید عرفان احمد اور مقامی وکیل عرفان شفیع میر کو بھی عدالت نے انٹروگیشن کے لیے این آئی اے کی حراست میں دے دیا۔

پولیس افسر دیویندر سنگھ کو پویس کی ایک ٹیم نے جس کی قیادت ڈپٹی انسپکٹر جنرل (جنوبی کشمیر) اتُل گوئل کر رہے تھے 11 جنوری کو حفاظتی دستوں کو انتہائی مطلوب کشمیری عسکری کمانڈر سید نوید مشتاق اور آصف راتھر کے ساتھ اُس وقت گرفتار کیا تھا جب یہ تینوں نجی موٹرکار میں مبینہ طور پر وادی کشمیر سے جموں اور وہاں سے چندی گڑھ کی جانب سفر کر رہے تھے۔

موٹرکار کو پولیس پارٹی نے سرینگر۔جموں شاہراہ پر ونپوہ۔میر بازار کے مقام پر روک لیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، سید نوید اور اُس کے ساتھی کے بارے میں جموں کی طرف روانگی کے بارے میں اسے نوید اور اُس کے بھائی سید عرفان کے درمیان موبائل فون پر ہونے والی بات چیت کو ریکارڈ کرنے کے دوران پتا چلا تھا۔

افضل گورو کا انکشاف

دیویندر سنگھ جو سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر انٹی ہائی جیکنگ اسکواڈ میں ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ کی حیثیت سے تعینات تھے، وہی پولیس افسر ہیں جن کے بارے میں 13 دسمبر 2001 کو نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں مجرم قرار دیے گیے سابق کشمیری عسکریت پسند محمد افضل گورو نے اپنی وکیل کے نام لکھے گیے خط میں کہا تھا کہ انہوں نے افضل گورو کو ایک اور ملزم محمد کو حملے سے پہلے کشمیر سے نئی دہلی لے جانے اور وہاں اُس کے قیام و طعام کا بندوبست کرنے پر مجبور کیا تھا۔ افضل گورو کو 9 فروری 2013 کو دِلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے بتایا تھا کہ دیویندر سنگھ کو جس دن گرفتار کیا گیا وہ اُس دن ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے اور انہوں نے اتوار 12 جنوری سے چار دن کے لیے چھٹی لے رکھی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اور اُن کے ہمراہ سفر کرنے والے مشتبہ عسکریت پسند جموں اور پھر چندی گڑھ کس لیے جا رہے تھے، اس کا پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ تینوں جس موٹرکار میں سفر کر رہے تھے اُس میں سے پانچ دستی بم برآمد کیے گیے تھے۔ بعد میں سرینگر کے ہائی سیکیورٹی علاقے اندرا نگر میں واقع پولیس افسر کے گھر سے مبینہ طور پر ایک اے کے 47 بندوق اور دو پستول برآمد کیے گیے۔ اس کے علاوہ پولیس کو مبینہ طور پر عسکری کمانڈر نوید بابو کی نشاندہی پر جنوبی کشمیر میں عسکریت پسندوں کی ایک کمین گاہ سے ایک اور اے کے بندوق ملی تھی۔

بعدازاں، پولیس نے دیویندر سنگھ کے سرینگر اور جنوبی ضلع پُلوامہ کے ترال علاقے میں واقع اُن کے آبائی گھر سے کئی اہم دستاویزات اور دوسرا مواد ضبط کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ پولیس ذرائع نے یہ بھی بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران پتا چلا ہے کہ پولیس افسر اس سے پہلے بھی کشمیری عسکریت پسندوں کو وادی سے باہر لے جاتا رہا ہے۔

نوید مشتاق کون ہے؟

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نوید بابو جو پہلے پولیس میں ایک اسپیشل افسر کی حیثیت سے کام کرتا تھا، لیکن 2017 میں بھگوڑہ ہوکر بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا تھا، مبینہ طور پر دہشت گردی کے کئی واقعات میں ملوث رہا ہے۔ ان میں غیر ریاستی مزدوروں، ٹرک ڈرائیوروں اور میوہ تاجروں سمیت گیارہ شہریوں اور چند پولیس اہلکاروں کو قتل کرنا بھی شامل ہے۔

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے کہا تھا کہ پولیس افسر دیویندر سنگھ نے، اُن کے بقول، ایک گھناؤنا جرم کیا ہے اور پولیس انہیں ایک دہشت گرد سمجھتی ہے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر رہی ہے جو ایک دہشت گرد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ بعد میں دیویندر سنگھ کو اُن کی خدمات کے اعتراف میں اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ میں کئی سال تک کام کرنے کے دوراں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر 2018 میں دیے گیے شیرِ کشمیر پولیس میڈل کو واپس لیا گیا۔ پولیس محکمے نے دیویندر سنگھ کو پہلے ہی معطل کر دیا ہے اور حکومت سے یہ سفارش کی ہے کہ انہیں نوکری سے سبکدوش کیا جائے۔

کیس نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کے سپرد

گزشتہ دنوں بھارت کی وزارتِ داخلہ نے اس کیس کی تحقیقات کا کام این آئی اے کو سونپا۔ این آئی اے نے اس سلسلے میں باضابط کیس رجسٹر کرنے کے بعد دیویندر سنگھ اور چار دوسرے افراد کو حراست میں لینے کے بعد انہیں بدھ کو سرینگر سے جموں پہنچا دیا تھا، جہاں ان پانچوں افراد کو جمعرات کو اس کی خصوصی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔

افضل گورو کو ایک آخری کام کرنے پر مجبور کیا گیا؟

سرینگر میں حال ہی میں منعقدہ ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران ایک نامہ نگار نے افضل گورو کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل کمار کو آگاہ کیا تھا کہ دیویندر سنگھ نے کچھ عرصہ پہلے اُسے دیے گیے ایک انٹرویو کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے افضل گورو کو حراست کے دوران مبینہ طور پر اذیتیں دی تھیں اور یہ کہا تھا کہ مزید تشدد سے بچنے کے لیےوہ ایک آخری کام کریں جو انہوں نے کیا۔

حزب المجاہدین میں سرایت کرنے کا منصوبہ!

جموں میں این آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ دیویندر سنگھ سے حزب المجاہدین اور دوسری عسکری تنظیموں کے ساتھ اُن کے مبینہ روابط اور ان کے بھارت کے مختلف حصوں اور بنگلہ دیش کے سفر کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ تاہم، پولیس افسر کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش اپنی بیٹیوں سے ملنے جاتے تھے جو وہاں کے ایک طبیہ کالج میں زیرِ تعلیم ہیں۔

را کی طرف سے 'غلط قدم' اٹھانے پر تشویش

رپورٹ کے مطابق، را کے سربراہ سامنت گوئیل نے گزشتہ ہفتے بھارت کے قومی سلامتی کےمشیر اجیت دوؤل کی اس کارروائی کے بارے میں بریفنگ دی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر نے آپریشن کے دوران "غلط قدم" اٹھانے پر گہری تشویش ظاہر کی۔

صحافی نے اپنی رپورٹ میں گوئیل اور دوؤل کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں جانکاری رکھنے والے ایک سینئر افسر، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ دیویندر سنگھ کو استعمال کرنے میں را نے نا اہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن، اس میں کسی جرم کے ارتکاب کا ارادہ نہیں تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب المجاہدین میں سرایت کرنا ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھا، جس کا مقصد جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 سے نافذ العمل مواصلاتی بلیک آؤٹ کے پیشِ نظر نئے ذرائع پیدا کرکے ان کی مدد سے عسکریت کا توڑ کرنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ را کا بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں جاری عسکری مخالف مہم میں کوئی کردار نہیں ہے، اس کے آپریشن کے تحت، مبینہ طور پر، حزب المجاہدن کے اراکین کو پاکستان جا کر وہاں اس تنظیم کی تدبیری تیاریوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے پر آمادہ کرنا بھی تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG