رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر ہڑتال


بنگلور میں حزب اختلاف کے کارکن حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ 10 ستمبر 2018

بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 80 روپے لیٹر سے اوپر پہنچ گئی ہیں اور روپیہ ایک ڈالر کے مقابلے میں گر کر 72 روپے 67 پیسے پر آگیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

کانگریس کی زیر قیادت حزب اختلاف کی 21 جماعتوں کی کال پر پٹرول، ڈیزل اور لازمی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بھارتی روپیہ کی قدر میں تیزی سے گراوٹ کے خلاف پیر کے روز ملک گیر ہڑتال کی گئی۔

کانگریس صدر راہول گاندھی کی قیادت میں کی جانے والی ہڑتال کے دوران مختلف علاقوں میں معمول کی زندگی متاثر رہی۔ بہار اور مہاراشٹرا سمیت متعدد ریاستوں سے تشدد کی بھی خبریں موصول ہوئیں۔

سرکاری و غیر سرکاری املاک نذر آتش کی گئیں۔ ریل اور بس خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ جس کی وجہ سے مسافروں کو زبردست دشواریوں سے گزرنا پڑا۔

بہار کے جہان آباد میں مبینہ طور پر ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے دو سال کی ایک بچی ہلاک ہو گئی۔ اس کے والدین اسے اسپتال لے جا رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ اگر انہیں جانے دیا گیا ہوتا تو بچی کی جان بچ سکتی تھی۔

لیکن جہان آباد کے ایس ڈی او پرتیش کمار نے ٹریفک جام سے موت کی ترديد کی اور کہا کہ بچی کے والدین تاخیر سے گھر سے نکلے تھے۔

کانگریس صدر راہول گاندھی نے دہلی کے رام لیلا میدان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا حزب اختلاف بی جے پی کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شديد حملہ کیا اور الزام عائد کیا کہ وہ عوام سے عوام کو لڑا رہے ہیں۔

راہول گاندھی نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے حکومت پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ نریندر مودی نے کہا تھا کہ جو 70 برسوں میں نہیں ہوا ہم نے چار سال کر دکھایا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ” واقعی انہوں نے وہ کر دیا جو 70 برسوں میں نہیں ہوا تھا۔ آج ہر ہندوستانی دوسرے سے لڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم جہاں بھی جاتے ہیں لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑاتے ہیں“۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت نے ایسے بہت سے کام کیے ہیں جو عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جلد ہی اس حکومت کو بدلنے کا وقت آرہا ہے۔

کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے بھی اس پروگرام میں حصہ لیا۔

ادھر بی جے پی نے ملک گیر ہڑتال کو افواہ پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے والی قرار دیا۔

مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے یہاں ایک نیوز کانفرنس میں کانگریس صدر راہول گاندھی پر تنقید کی اور کہا کہ کیا وہ جہان آباد میں بچی کی موت کی ذمہ داری لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ تشدد کا کھیل بند ہونا چاہیے۔

روی شنکر نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے بیرونی اسباب کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ قیمتوں کو روکنا ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ کیونکہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے اپنی تیل کی پیداوار محدود کر دی ہے۔ انہوں نے اسے ایک وقتی پریشانی قرار دیا۔

یاد رہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 80 روپے لیٹر سے اوپر پہنچ گئی ہیں اور روپیہ ایک ڈالر کے مقابلے میں گر کر 72 روپے 67 پیسے پر آگیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG