رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں عام ہڑتال، علیحدگی پسند لیڈر نظر بند یا گرفتار


ہڑتال کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے کی تھی۔

عسکریت پسندوں نے جمعہ کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے اچھہ بل علاقے میں اچانک حملہ کرکے بھارت کے وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کے دو سپاہیوں کو ہلاک اور ایک کو شدید زخمی کر دیا۔ اس واقعے میں ایک شہری بھی زخمی ہوا۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم لشکرِ طیبہ نے قبول کی ہے۔

اُدھر سرحدی ضلع کپواڑہ کے ترہگام علاقے میں دو دن پہلے فوج کی فائرنگ میں ایک نوجوان کے ہلاک اور ایک کے زخمی ہونے کے واقعے کے خلاف جمعہ کو علاقے میں کرفیو نافذ رہنے کے باوجود کئے گئے مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اُٹھا۔ علاقے میں پتھراؤ کرنے والے ہجوموں اور سرکاری دستوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔

یہ واقعات منقسم ریاست کے دونوں حصوں میں یومِ شہدائے کشمیر منائے جانے کے موقعے پر پیش آئے ہیں۔

13 جولائی 1931 کو مطلق العنان ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کٓی فوج نے سری نگر کی مرکزی جیل کے باہر نہتے کشمیریوں پر گولی چلائی تھی جس کے نتیجے میں 22 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ یہ لوگ ایک غیر مقامی شخص عبدالقدیر خان پر بغاوت کے الزام میں جاری بند کمرے کے مقدمے کی کارروائی کے سلسلے میں جیل کے باہر جمع ہوئے تھے۔

خونریزی کے اس واقعے کے پس منظر میں 13 جولائی کو یومِ شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔

جمعہ کو مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے دارالحکومت سرینگر کے بیشتر حصوں میں ایک مرتبہ پھر کرفیو نافذ کیا، جبکہ وادی کشمیر کے بعض دوسرے حصوں میں سخت حفاظتی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اگرچہ ایسی تدابیر جو عہدیداروں کے مطابق احتیاطی نوعیت کی ہوتی ہیں اختیار کرنا اب ایک معمول بن گیا ہے اور متنازعہ فیہہ علاقے کی صورتِ حال کے پیش نظر یہ ایک ناگزیر عمل ہے۔ جمعہ کو حالیہ ہفتوں کے مقابلے میں ان پر نسبتاً زیادہ سختی کے ساتھ عملدرآمد کرایا گیا۔ مسلم اکثریتی وادی کشمیر کے باقی ماندہ علاقوں میں ایک عام ہڑتال کی وجہ سے زندگی کے معمولات میں خلل رہا۔

ہڑتال کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے کی تھی۔

اتحاد نے شہدائے کشمیر کی یاد میں ریلیاں نکالنے اور سرینگر کے خواجہ بازار علاقے میں واقع مزارِ شہداء پر ایک جلسہِ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حکام نے اس جلسے اور اس طرح کی دوسری تقریبات کو روکنے کے لئے ان جماعتوں کے لیڈروں اور سرکردہ کارکنوں کو اُن کے گھروں میں یا پھر پولیس تھانوں اور جیل خانوں میں نظر بند کردیا۔ کشمیر کے سرکردہ مذہبی اور سیاسی راہنما میر واعظ عمر فاروق نے جب اپنے گھر سے زبر دستی باہر آکر مزارِ شہداء کی طرف پیش قدمی شروع کی تو پولیس انہیں گرفتار کرکے لے گئی۔

تاہم، سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے اپنے اپنے ساتھیوں کی معیت میں سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ مزارِ شہداء پر حاضری دی، شہداء کی قبروں پر گلباری کی اور فاتحہ پڑھی۔

اس موقعے پر نامہ نگاروں کے اس استفسار پر کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ممبرانِ اسمبلی کو ورغلانے کی کوشش کررہی ہے، پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اس کے کشمیر کے لئے خطر ناک نتائج برآمد ہونگے‘‘۔

انہوں نے کہا،"اگر دِلّی 1987 کی طرح لوگوں کے حقِ رائے دہی کو مسترد کرتی ہے، اگر وہ (پی ڈی پی کو) تقسیم اور (اسکے معاملات میں) مداخلت کرنے کی کوشش کرتی ہے تو میں سمجھتی ہوں صلاح الدین اور یاسین ملک پیدا ہونگے جیسا کہ 1987 میں ہوا تھا۔"

صلاح الدین جن کا اصل نام محمد یوسف شاہ ہے عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے 'سپریم کمانڈر‘ اور محمد یاسین ملک قوم پرست جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے چیرمین ہیں۔ دونوں نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1987 میں کرائے گئے عام انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ لیکن ان انتخابات میں حکمران اتحاد نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے مبینہ طور پر دھاندلیاں کی تھیں اور بعد میں محمد یوسف شاہ اور یاسین ملک اور حزبِ اختلاف مسلم متحدہ محاذ سے وابستہ درجنوں دوسرے لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے ان پر جیل میں مبینہ طور ہر مظالم ڈھائے گئے تھے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے محبوبہ مفتی کے بیان کو ان کی ناامیدی قرار دیتے ہوئے کہا، کہ "اگر وہ وفاق کو پی ڈی پی کو توڑنے کی صورت میں کشمیر میں عسکریت کے احیا کی دھمکی دیتی ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ مایوس ہوچکی ہیں"۔ انہوں نے سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی پر طنز کرتے ہوئے کہا، "لگتا ہے کہ وہ یہ بھول رہی ہیں کہ ان کی سب سے فعال انتظامیہ کے تحت کشمیر میں ملٹنسی پہلے ہی دوبارہ جنم لے چکی ہے۔"

عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ اگر پی ڈی پی ٹوٹ جاتی ہے تو کوئی عسکریت پسند پیدا نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا "مجھے یہاں سب پر یہ واضح کرنے دیجئے کہ اگر پی ڈی پی ٹوٹ جاتی ہے تو ایک بھی نیا جنگجو پیدا نہیں ہوگا۔ لوگ اس پارٹی جسے دِلّی نے کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے لئے بنایا ہے کے فوت ہوجانے پر ماتم نہیں کریں گے"۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ان افواہوں اور قیاس آرائیوں کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے کہ وہ پی ڈی پی کو توڑ کر باغی ممبران اسمبلی کے ساتھ ملکر نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے چند روز پہلے کہا تھا۔ "بی جے پی حکومت بنانے کی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں ریاست میں کچھ عرصے تک گورنر راج نافذ رہے۔"

محبوبہ مفتی کی قیادت میں ریاست کی مخلوط حکومت 19 جون کو حلیف جماعت بی جے پی کی طرف سے اس سے علیحدہ ہونے کے ساتھ ہی گر گئی تھی جس کے ایک دن بعد ریاست میں گورنر راج لاگو کیا گیا۔

محبوبہ مفتی کے جمعہ کو دیے گئے بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ایک لیڈر اور وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ "وہ جنگجوؤں کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور دانستہ یا غیر دانستہ طور پر علیحدگی پسندوں کے ساتھ اپنی قربت کو بے نقاب کررہی ہیں"۔

اس دوراں اقلیتی کشمیری پنڈت فرقے نے جموں میں چھوٹی چھوٹی تقریبات کا انعقاد کیا لیکن مختلف انداز میں اور ایک متضاد سیاسی نظریے کو لیکر۔ ان کا الزام ہے کہ 87 برس پہلے مطلق العنان ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف کشمیری مسلمانوں کی طرف سے شروع کی گئی جدوجہد کے ساتھ ہی اکثریتی فرقے کے ہاتھوں انہیں دِق کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں نے ان تمام بیانات، دعوؤں، الزامات اور مفروضوں کو رد کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ 1931 میں 22 کشمیری مسلمانوں نے جموں و کشمیر کی مکمل آزادی کی خاطر اپنی جانیں دیں اور یہ تحریک اب بھی جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG