رسائی کے لنکس

بھارت نے پاکستان کا مبینہ 'جاسوس کبوتر' آزاد کر دیا


ّ(فائل فوٹو)

بھارتی پولیس نے دو روز قبل پکڑا جانے والا پاکستانی مبینہ 'جاسوس کبوتر' جمعے کو آزاد کر دیا۔ کبوتر کی رہائی بھارتی پولیس کی جانب سے تحقیقات کے بعد عمل میں آئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد پتا چلا ہے کہ کبوتر جاسوسی کی غرض سے نہیں بھیجا گیا تھا بلکہ وہ سرحدی علاقوں سے پرواز کرتے ہوئے بھارت پہنچا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقہ کاتھوا کے سینئر پولیس افسر شیلندر مشرا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ کبوتر کو جاسوسی کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کبوتر کو کہاں رہا کیا گیا اور وہ اپنے پاکستانی مالک تک واپس پہنچ گیا یا نہیں۔

پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا یہ جاسوس کبوتر ہے جس کے پنجوں میں پہنائے گئے چھلوں پر ایک موبائل فون نمبر درج ہے۔ بھارتی پولیس کا دعویٰ تھا کہ یہ 'خفیہ کوڈ' ہے۔

کبوتر پکڑے جانے کی خبروں کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کے سرحدی علاقے شکر گڑھ کے گاؤں بگا کے رہائشی حبیب اللہ نے کہا تھا کہ یہ مادہ کبوتر اس کی ملکیت ہے، اس نے عید کے دن کبوتر اڑائے تھے مگر مذکورہ کبوتر واپس نہیں آیا تھا۔

حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ کبوتر کا تعلق گولڈن نسل سے ہے۔ انہوں نے بھارت سے کبوتر واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

'رائٹرز' سے گفتگو کے دوران حبیب اللہ نے کہا کہ کبوتر کے پنجے میں پہنائے گئے پلاسٹک کے چھلے پر اس کا موبائل نمبر لکھا ہوا ہے جو کوئی خفیہ کوڈ نہیں۔

حبیب اللہ کے مطابق انہوں نے کبوتر اڑانے کے مقابلے میں حصہ لیا تھا اور کبوتروں کی پہچان کے لیے ہر کبوتر کے پنجے میں اس کے مالک کا موبائل نمبر درج تھا۔ تاکہ مقابلہ جیتنے کی صورت میں اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ کبوتر کا اصل مالک کون ہے۔

شکر گڑھ کبوتر کلب کے یاسر خالد نے بتایا کہ کبوتر اڑانا سرحدی دیہات کے مکینوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی کبوتر بازی کے مقابلے ہوتے رہتے ہیں اس لیے کبوتروں کی ایک ملک سے دوسرے ملک پرواز غیر معمولی بات نہیں۔

کبوتر مالکان اپنے پرندوں کی شناخت پروں پر رنگ لگا کر یا کبوتر کے پنجوں میں پہنائے گئے چھلوں سے بھی کرتے ہیں۔

ایک سینئر بھارتی سرحدی سیکیورٹی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے اُنہیں یہ کبوتر قبضے میں لینا پڑا۔ تاکہ تصدیق ہو سکے کہ آیا کے یہ کبوتر جاسوسی کے لیے استعمال تو نہیں ہو رہا۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری کے دوران ایسے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔

چار سال قبل بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آچکا ہے جس میں ایک کبوترکے پنجوں میں بندھی تحریر کے ذریعے بھارتی وزیراعظم کو دھمکی دی گئی تھی۔ اس کبوتر کو بھی بھارتی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG