رسائی کے لنکس

حکومت نے دعویٰ کیا کہ بعض روہنگیا مسلمانوں کا رابطہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے اور ان کو یہاں قیام کی اجازت دینا ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے

بھارتی حکومت نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے کہا کہ بھارت میں روہنگیا مسلمان غیر قانونی تارکین وطن ہیں اور یہاں ان کا مستقل قیام قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے کا بنیادی حق صرف شہریوں کو حاصل ہے اور غیر قانونی پناہ گزیں اس حق کے حصول کے لیے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کا حوالہ نہیں دے سکتے۔

حلف نامہ کے مطابق، روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجنا ایک پالیسی فیصلہ ہے اور عدالت کو اس معاملے میں مداخلت سے احتراز کرنا چاہیئے۔

حکومت نے دعویٰ کیا کہ بعض روہنگیا مسلمانوں کا رابطہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے اور ان کو یہاں قیام کی اجازت دینا ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

اس کے مطابق، دہشت گردانہ پس منظر والے بعض روہنگیا دہلی، حیدرآباد، جموں اور میوات میں سرگرم ہیں۔ بہت سے روہنگیا مسلمانوں نے غیر قانونی طریقے سے ووٹر شناختی کارڈ اور پین کارڈ بنوا لیے ہیں اور بعض غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے حوالہ کے راستے فنڈ اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکومت نے عدالت کو بتایا کہ وہ سلامتی خدشات سے متعلق خفیہ رپورٹیں آئندہ سماعت پر سر بہ مہر لفافے میں پیش کرے گی۔ تاہم، اس نے یہ بھی کہا کہ جن 16500 پناہ گزینوں کے پاس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کی جانب سے کارڈ جاری کیے گئے ہیں ان کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ اس وقت بھارت میں کل 40 ہزار روہنگیا پناہ گزیں ہیں۔

مرکزی حکومت نے یہ حلف نامہ دو روہنگیا پناہ گزینوں محمد سلیم اللہ اور محمد شاکر کی عرضداشتوں کے جواب میں داخل کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی قوانین کے مطابق بھارت پناہ گزینوں کو ان کے ملک واپس نہیں بھیج سکتا۔

بھارت کا کہنا ہے کہ چونکہ اس نے پناہ گزینوں کے متعلق 1951 کے کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں اس لیے اس کنونشن کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔ جبکہ پناہ گزینوں کا مقدمہ لڑنے والے معروف وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ بھارت کا آئین ان لوگوں کے سمیت جو یہاں کے شہری نہ ہوں ہر شخص کو مساوی اختیار اور آزادی دیتا ہے۔

عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 3 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پابندی کرے۔

روہنگیا مسلمانوں نے حکومت کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ان کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس ملک میں مستقل رہنے نہیں آئے ہیں۔ ان کے ملک کے حالات جوں ہی بہتر ہو جائیں گے وہ یہاں سے چلے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG