رسائی کے لنکس

چین سے بحری قوت میں مسابقت: بھارتی نیوی میں دوسرے طیارے بردار کا اضافہ


بھارت کا پہلا مقامی ساختہ طیارہ بردار بحری جہاز INS وکرانت، جمعرات، 25 اگست، 2022 کو کوچی، سے سمندری آزمائشوں کے لیے روانہ ہوا۔فوٹو اے پی
بھارت کا پہلا مقامی ساختہ طیارہ بردار بحری جہاز INS وکرانت، جمعرات، 25 اگست، 2022 کو کوچی، سے سمندری آزمائشوں کے لیے روانہ ہوا۔فوٹو اے پی

بھارت اپنے طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرمادتیہ کی بڑے پیمانے پر مرمت کے بعد اسےدوبارہ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے مقابلہ کے لیے اپنی علاقائی سمندری طاقت کو تقویت دینے کے لیے دو طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی کی جانب پہلا قدم ہے۔

روس سے حاصل کیےجانےواےسابق سوویت طیارہ بردار کیریئر’ وکرمادتیہ ‘کے فوری طور پر لانچ کرنے کیے جانے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہبھارت میں مقامی طور پر بنایا جانے والا پہلا طیارہ بردار جہاز ’ آئی این ایس وکرانت‘جسے ستمبر میں لانچ کیا گیا تھا، تیاری اور سمندری آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔

لندن کےبین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ہند-بحرالکاہل دفاع کے ماہر ویراج سولنکی نے کہا، ’’یہ بنیادی طور پر بحر ہند کے اندر بھارت کی پاور پروجیکشن کی صلاحیتوں کے لحاظ سے اہم ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’’ یہ درحقیقت بھارت کو بحر ہند میں چین کا مقابلہ کرنے کی اپنی اس اہلیت کےاظہار کا ایک متبادل فراہم کرتا ہے، جو بھارتی بحریہ کی ترجیح ہے۔‘‘

ہندوستانی بحریہ کے افسران 2 ستمبر 2022 کو کوچی میں ایک سرکاری شپ یارڈ میں کمیشننگ کی تقریب کےبعد وکرانت کے فلائٹ ڈیک پر کھڑے ہیں۔
ہندوستانی بحریہ کے افسران 2 ستمبر 2022 کو کوچی میں ایک سرکاری شپ یارڈ میں کمیشننگ کی تقریب کےبعد وکرانت کے فلائٹ ڈیک پر کھڑے ہیں۔

چین کی پیپلز لبریشن آرمی بحریہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے توسیع اور جدید کاری کا کام کر رہی ہے اور اب وہ دنیا کی سب سے بڑی بحریہ بن چکی ہے۔

جون میں، چین نے اس پروگرام کے حصے کے طور پرجو اپنی حد وداور طاقت کو بڑھانے اورعالمی سطح پر کام کر نے ولی ایک ’’بلیو واٹر‘‘ فورس بننے کے لیے ، اپنا پہلا مقامی طور پر ڈیزائن اور تیارکردہ پہلا طیارہ بردار بحری جہاز لانچ کیا تھا، جو ملک کا مجموعی طور پر تیسراکیرئیر ہے۔

،چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے بیلسٹک اور کروز میزائل ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، اور امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مستقبل قریب میں اپنی آبدوزوں اور اپنی بحریہ کے جنگی بیڑے سے زمینی اہداف کے خلاف طویل فاصلے تک درست حملے کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

ایک ایسے وقت میں جب بیجنگ تائیوان کے ارد گرد اپنی بحری موجودگی کو بڑھا رہا ہے اور بحیرہ جنوبی چین میں اپنے دعوؤں کو وسعت دےا رہا ہے، امریکہ، برطانیہ اور دیگر اتحادیوں نے اس کا جواب خطے میں باقاعدہ بحری مشقوں اور آبنائے تائیوان میں سفر کرنے کے ساتھ جواب دیا ہے جس کا مقصد انڈو پیسیفک کو ’کھلا‘ اور "آزاد ‘ارکھنے کی پالیسی پر عمل کرنا ہے۔

بھارت اور چین کے درمیان 2020 میں زمینی سرحد پر جھڑپ ہوئی تھی جس میں 20 بھارتی اور چار چینی فوجی مارے گئے تھے۔ اس جھڑپ کے بعد اس ناہموار پہاڑی علاقے میں تعطل پایا جاتا ہے اور دونوں ملکوں نے وہاں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

بھارتی بحریہ کے ریٹائرڈ سربراہ ارون پرکاش کا کہنا ہےکہ یہ تجربہ مستقبل میں کسی تنازع کی صورت میں سمندروں کو مزید اہم بنا سکتا ہے۔

پرکاش نے دسمبر میں انڈین ایکسپریس میں لکھا کہ ہمالیہ میں 30 ماہ سے جاری چین بھارت فوجی تعطل اور بحیرہ جنوبی چین میں چین کی اسٹریٹجک پوزیشن بھارت کے فیصلہ سازوں کے لیے اس کا واضح اشارہ ہونی چاہیے کہ سمندری طاقت کو ملک کی پالیسی میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

ریٹائرڈ بھارتی بحریہ کے سابق ترجمان کیپٹن ڈی کے شرما ، جو اب دفاعی امور پر مشاورت کرتے ہیں، کہنا ہےکہ دو طیارہ بردار جہازوں کے ساتھ، بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ ہر ساحل پر ایک طیارہ بردار جہاز تعینات کیا جائے۔

بھارت کی توجہ مغرب میں پاکستان کی طرف ہے، لیکن اس کے مشرق میں اہم شپنگ لین میں چینی جہازوں کی موجودگی کے ساتھ، بھارتی بحریہ کے لیے وہاں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانا اہم ہے۔

یہ رپورٹ ایسو سی ایٹڈ پریس کی فراہم کردہ اطلاعات پر مبنی ہے۔

XS
SM
MD
LG