رسائی کے لنکس

بھارت میں 'ٹک ٹاک اسٹارز' کی آمدنی بند


فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کی جانب سے چین کی موبائل ایپلی کیشن 'ٹک ٹاک' پر پابندی سے اس کے 'اسٹارز' کی آمدنی بند ہو گئی ہے اور اُن میں مایوسی کا احساس بڑھنے لگا ہے۔

'ٹک ٹاک' بھارت میں ناصرف سینکڑوں افراد کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھی بلکہ کروڑوں افراد کے لیے تفریح کا باعث بھی تھی۔

بھارت نے ٹک ٹاک سمیت چین کی درجنوں ایپس کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے منگل کو ان پر پابندی عائد کر دی تھی۔

بھارت میں ٹک ٹاک مقبول ترین موبائل ایپلی کیشنز میں سے ایک ہے۔ یہ چینی کمپنی 'بائٹ ڈانس' کی ملکیت ہے جو بھارت میں ایک بلین سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ یہ مارکیٹ میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کے ملازمین کی تعداد 2000 بتائی جاتی ہے۔

ممبئی کی گیتا شری دھر ایسی ہزاروں خواتین میں شامل ہیں جو اپنے اسمارٹ فون کے بغیر کچن میں داخل نہیں ہوتی تھیں۔ 54 سالہ گھریلو خاتون 'ٹک ٹاک' پر روزانہ درجنوں مختصر ویڈیو اپ لوڈ کیا کرتی تھیں جن میں زیادہ تر کھانا پکانے کی روایتی ترکیبیں بتائی جاتی تھیں۔

ان کے فالورز کی تعداد ایک کروڑ سے زائد تھی اور وہ ٹک ٹاک سے ماہانہ 50 ہزار روپے کمایا کرتی تھیں۔ آمدنی کے بند ہوجانے سے اُنہیں دھچکا لگا ہے۔

'ٹک ٹاک' شری دھر جیسی ہزاروں بھارتی خواتین اور مردوں کے لیے شہرت اور خوش قسمتی کی علامات بنی ہوئی تھی۔ لیکن دو روز قبل لگنے والی پابندی سے ہزاروں ٹک ٹاک اسٹارز اور ان کے فالوورز پریشان ہو گئے ہیں۔

انسٹاگرام، فیس بک اور ٹوئٹر کے مقابلے میں 'ٹِک ٹاک' کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کا انٹرفیس وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا تھا جب کہ صارفین کو بیک گراؤنڈ موسیقی کے استعمال سے متعلق خاصے اختیارات حاصل تھے۔

ان خصوصیات کی بدولت ٹک ٹاک بھارتی مشرقی علاقوں اور شہروں میں ہر جگہ اپنی جگہ بناتا چلا گیا۔

ٹک ٹاک کے صارفین ایپ کی بدولت بہت سے دور دراز علاقوں سے لے کر درجنوں شہروں تک بہت جلد مشہور ہو جایا کرتے تھے جس کے سبب انہیں وہی احساس ہوتا تھا جو بالی وڈ فنکاروں یا دیگر سیلبرٹیز کو اسٹار بننے پر ہوتا ہے۔

بالی وڈ انڈسٹری سے متعلق لطیفے، ڈانس کلپس اور ویڈیوز اس پلیٹ فارم کی خاصیت تھے اور لوگ یہی دیکھنا پسند کرتے تھے۔

بائیس سالہ وشال پانڈے کے 'ٹک ٹاک' فالورز کی تعداد تقریباً 17 ملین تھی۔ وہ ہر روز ٹک ٹاک پر مختلف ڈانس ویڈیوز اور لطیفے پوسٹ کیا کرتے تھے۔ انہیں اداکاری کی وجہ سے کئی فلموں میں بھی کام کرنے کی پیشکش ہوئی تھی۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ 'ٹک ٹاک' نے ان کے لیے بہت سے بند دروازے کھولے تھے۔ ان کے گھر کے باہر آڈیشنز لینے والوں کی لائنیں لگ گئی تھیں جب کہ بہت سے لوگوں نے اُنہیں فون پر اپنی ویب سیریز میں کام کرنے کی بھی آفر کی۔

انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا کہ ٹک ٹاک کا مقابلہ کسی بھی ایپ سے نہیں کیا جا سکتا، اس جیسی کوئی بھی ایپ اس وقت 'ٹک ٹاک' کا متبادل نہیں ہے۔

تئیس سالہ ایک اور بھارتی طالبہ سری چالہ نے حال ہی میں اپنی اور اپنی والدہ کی کچھ ڈانس ویڈیوز ٹک ٹاک پر شیئر کی تھیں جن کے بعد صرف تین ماہ میں ان کے فالورز کی تعداد 10 لاکھ ہو گئی۔

ان کی شہرت کو دیکھتے ہوئے ایک بیوٹی برانڈ نے ان کی خدمات حاصل کرلیں اور یوں ٹک ٹاک کی بدولت ان کی زندگی ہی بدل گئی۔

ٹک ٹاک پر پابندی کے اعلان کے بعد اور ایپ کے بلینک ہونے سے قبل کئی ٹک ٹاک اسٹارز نے اپنے فالوورز سے کہا تھا کہ وہ آئندہ یوٹیوب یا انسٹاگرام پر اپنی پوسٹس کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ٹک ٹاک پر پابندی کے بعد بھارت کی تخلیق کردہ کچھ ایپلی کیشنز کی شہرت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن یہ کس حد تک کامیاب رہتی ہیں اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ تاہم یہ ایپس گوگل کے ایپ اسٹور پر موجود ہیں اور انہیں آسانی سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG