رسائی کے لنکس

ایک اور بیمار پاکستانی کے لیے بھارتی ویزے کا اعلان


فائل فوٹو

بھارت میں علاج کی بہتر اور نسبتاً سستی سہولتوں کے باعث پاکستانی پڑوسی ملک میں علاج کے لیے جاتے رہے ہیں

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک اور پاکستانی شہری کو میڈیکل ویزا جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اُن کے جگر کا علاج بھارتی اسپتال میں کیا جا سکے۔

ایک پاکستانی شہری حامد علی اشرف نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر کے ذریعے متعدد پیغامات میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے اپیل کی تھی کہ اُن کے والد کی صحت اچھی نہیں ہے اور اس لیے جگر کے ٹرانسپلاٹ کے لیے اُنھیں ویزا جاری کیا جائے۔

اس کے جواب میں بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہم آپ کے والد کی ’ٹرانسپلاٹ سرجری‘ کے لیے اُنھیں بھارت کا ویزا جاری کر رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی متعدد پاکستانی شہریوں کی طرف سے ٹوئٹر کے ذریعے بھارت کی وزیر خارجہ سے میڈیکل ویزے جاری کرنے کی درخواستیں کی جاتی رہی ہیں جن پر سشما سوراج کی طرف سے اُنھیں ویزا دینے کا اعلان سامنے آتا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ کے اواخر ہی میں دل کے عارضے میں مبتلا ایک سات سالہ پاکستانی بچی ماہا شعیب کی والدہ نے اس معاملے میں بھارتی وزیر خارجہ سے ویزا جاری کرنے کی درخواست کی تھی جس کا سشما سوراج نے ایک ٹویٹ ہی کے ذریعے جواب دیتے ہوئے ویزا جاری کرنے کا کہا تھا۔

بھارت میں علاج کی بہتر اور نسبتاً سستی سہولتوں کے باعث پاکستانی پڑوسی ملک میں علاج کے لیے جاتے رہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے سبب میڈیکل ویزوں کے اجرا کا معاملہ بھی مثاثر ہوا ہے۔

بھارت کی طرف سے رواں سال کے وسط میں کہا گیا تھا کہ علاج کے لیے بھارت آنے کے خواہش مند پاکستانیوں کو ویزے کے حصول کے لیے مشیرِ خارجہ کا خط درکا ہو گا، لیکن بظاہر مشیرِ خارجہ سے ہر پاکستانی کے لیے خط حاصل کرنا ایک مشکل عمل ہے۔

جولائی میں عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کی بطور وزیراعظم نا اہلی کے بعد اُن کے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز بھی اب بدل چکے ہیں اور ایک دوسرے شعبے میں ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے کوشاں حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلقات میں تناؤ کا عوامی رابطوں پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG