رسائی کے لنکس

افغانستان کی صورتِ حال پر بھارت کی خاموشی پر آوازیں اُٹھنے لگیں


بھارت کی جانب سے افغانستان کی صورتِ حال پر تاحال کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے اور اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کے دو روز بعد بھی بھارت کی جانب سے وہاں کی صورت حال پر تاحال باضابطہ طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

البتہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اُن کی ساری توجہ افغانستان میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے پر مرکوز ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے منگل کی صبح ایک ٹوئٹ میں کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں بھارتی سفیر اور دیگر سفارتی عملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کے ایک طیارے نے امریکی افواج کی مدد سے بھارتی سفیر رودریندر ٹنڈن اور ان کے عملے سمیت کل 120 افراد کو لے کر منگل کی صبح آٹھ بجے کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ سے پرواز بھری۔

یہ طیارہ دوپہر میں گجرات کے جام نگر ایئر پورٹ پر اترا اور وہاں سے ایندھن لینے کے بعد وہ دہلی کے لیے پرواز کر گیا۔

رپورٹس کے مطابق بھارت اب اپنے دیگر شہریوں کو واپس لانے کے لیے امریکی افواج کی اجازت کا منتظر ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی شہریوں کا پہلا گروپ اتوار کی شام دہلی پہنچا تھا۔

قبل ازیں وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم افغانستان میں سکھ اور ہندو برادری کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جو لوگ بھارت آنا چاہیں گے ہم ان کی واپسی کی راہ ہموار کریں گے۔

بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے جو کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں ہیں۔ افغانستان سے بھارتی شہریوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن سے بات کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اینٹنی بلنکن نے بھارتی شہریوں کو نکالنے کے لیے مکمل حمایت کی یقینی دہانی کرائی ہے۔

دریں اثنا بھارت کی وزارتِ داخلہ نے افغانستان سے بھارت آنے کے خواہش مند افراد کے لیے نئے قسم کے الیکٹرانک ویزا ضابطے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ویزا درخواستوں پر تیزی سے کام ہو گا۔

ادھر افغانستان کی صورتِ حال پر بھارت کی مکمل خاموشی پر تجزیہ کاروں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ بھارتی حکومت صورتِ حال کا باریکی سے جائزہ لے رہی ہے اور افغانستان میں کسی نئی حکومت کے قیام کے بعد ہی اس کی طرف سے کوئی بیان جاری ہو گا۔

بین الاقوامی امور کے ایک سینئر تجزیہ کار اور صحافی حسن کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بھار ت کی خاموشی سے ایسا لگتا ہے جیسے اسے خبر ہی نہیں ہے کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے۔ پورے ملک پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے اور صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

انہوں نے اس صورتِ حال کو بھارت کی خارجہ پالیسی کی مکمل ناکامی قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ بھارت کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے صرف اشرف غنی پر اعتبار کیا۔ اب اشرف غنی جا چکے ہیں تو یہاں کی حکومت کچھ سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ اسے کس قسم کا ردِ عمل ظاہر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے طالبان کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ امریکہ جو کہ 20 برسوں سے طالبان سے لڑ رہا ہے وہ ان سے بات کر رہا ہے۔ اسی وقت بھارت کو سنبھل جانا چاہیے تھا اور اشرف غنی کے علاوہ دیگر افغان دھڑوں سے بھی بات چیت کرنی چاہیے تھی۔

ان کے بقول جب امریکہ طالبان سے بات کر رہا تھا تو پھر بھارت کو بات کرنے میں کیا پریشانی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ افغانستان کے بارے میں حکومت کی سطح پر کچھ سوچا ہی نہیں جا رہا۔

ان کے مطابق مودی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دنیا کے ہر مرض کا علاج خاموشی ہے۔ لہٰذا اس معاملے پر بھی خاموشی اختیار کر لو مرض خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جب افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو بھارت نے بھی بہت سے دیگر ملکوں کی مانند اس کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس نے کابل میں اپنا سفارت حانہ بند کر دیا تھا۔ طالبان کی حکومت سے اس نے سفارتی رشتے قائم نہیں کیے تھے۔ مگر اس بار حالات مختلف ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک حکومت کا جو رویہ ہے اس سے نہیں لگتا کہ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد وہ اس سے کوئی رابطہ قائم کرے گی۔

انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ سبرامنین سوامی کی ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایس جے شنکر اور اجیت ڈوول نے اس وقت بھارت کو مکمل طور پر الگ تھلگ کر دیا ہے۔

ان کے مطابق بھارت نہ صرف افغانستان میں بلکہ پورے خطے میں الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ اس کو یہ سمجھ ہی میں نہیں آرہا ہے کہ اسے کس سے بات کرنی چاہیے اور کس سے نہیں۔

حسن کمال کا کہنا ہے کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ عبد اللہ عبد اللہ جیسے ان لوگوں سے جو کہ بھارت کو سمجھتے ہیں اور اسے اپنا دوست مانتے ہیں، رابطہ قائم کرے اور ان سے بات کرے۔

ان کے مطابق اگر بھارت ان سے بات نہیں کر سکتا تو کم از کم اپنے دوست ملک متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے توسط سے طالبان سے رابطہ قائم کرے اور ان تک یہ پیغام پہنچائے کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھار ت کو بھی دوسرے ملکوں کی مانند یہ کہنا چاہیے کہ اگر طالبان کی حکومت انسانی حقوق کا احترام کرے گی اور خواتین اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرے گی تو ہم اس سے بات کریں گے اور اس کو تسلیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ایسے اشارے دیے جا رہے ہیں کہ ان میں تبدیلی آئی ہے اور ان کا رویہ نرم ہوا ہے۔

ایک سابق سفارت کار وویک کاٹجو نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا راستہ ہموار کرے۔

ان کے مطابق اگر چہ طالبان کا نظریہ سیاست بھارت کے نظریے سے مختلف ہے پھر بھی بھارت کو طالبان سے رابطہ قائم کرنا اور اس سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس سے اس کا ہی نقصان ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کا تقاضا ہے کہ بھارت بات چیت میں پیچھے نہ رہے۔ جب دنیا کی دیگر طاقتیں بات کر رہی ہیں اور طالبان کی طاقت کو تسلیم کر رہی ہیں تو اسے بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

وویک کاٹجو ایک یو ٹیوب چینل پر ہونے والے مباحثے میں اظہار خیال کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جب دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے تو ایسی خبریں آرہی تھیں کہ بھارت نے بھی طالبان سے رابطہ قائم کیا ہے لیکن بھارت ایسی خبروں کو سختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔

تاہم باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے آحری ادوار میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے طالبان رہنما ملا برادر سے ملاقات اور بات چیت کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG