رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر: تین دن میں پانچ عسکری کمانڈروں سمیت 17 افراد ہلاک


شوپیاں، جنوبی سرینگر میں مظاہرہ

بھارتی عہدیداروں کے مطابق، گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران اس طرح کی جھڑپوں میں 55 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ان میں آٹھ اعلیٰ کمانڈر بھی شامل تھے۔ تشدد میں ایک درجن کے قریب شہری بھی مارے گئے ہیں

اتوار کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران دو اعلیٰ کمانڈروں سمیت چھہ عسکریت پسند اور ایک بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ یہ تین دن میں پیش آنے والی اس طرح کی دوسری بڑی جھڑپ تھی۔

جمعے کو شورش زدہ ریاست کے اننت ناگ ضلعے میں بھارتی حفاظتی دستوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک لڑائی میں کالعدم حزب المجاہدین اور لشکرِ طیبہ تنظیموں سے وابستہ تین اہم کمانڈروں سمیت چھہ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

بھارتی عہدیداروں کے مطابق، گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران اس طرح کی جھڑپوں میں 55 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ان میں آٹھ اعلیٰ کمانڈر بھی شامل تھے۔ تشدد میں ایک درجن کے قریب شہری بھی مارے گئے ہیں۔

سرینگر میں پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ شوپیان کے بُٹہ گنڈ گاؤں میں اتوار کو علی الصبح پیش آنے والی جھڑپ میں جو چھہ عسکریت پسند مارے گئے ان میں حزب المجاہدین اور لشکرِ طیبہ کے ضلع کمانڈر محمد عباس بٹ اور عمر مجید گنائی عرف ابو ہنزلہ بھی شامل ہیں۔

صرف دو دن پہلے عمر مجید کی ایک ایسی تصویر سوشل میڈیا میں وائرل ہوگئی تھی جس میں انہیں سرینگر کے تاریخی چوراہے لال چوک کے گھنٹا گھر کے قریب کھڑا دیکھا جاسکتا تھا۔ پولیس نے تصویر کی سچائی پر شُبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بات کا پتا لگا رہی ہے کہ آیا یہ تصویر پرانی ہے یا اسے کمپیوٹر کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

ہلاک کئے گئے تین دوسرے عسکریت پسندوں کی شناخت مشتاق احمد میر عرف حماد عرف موسیٰ، محمد وسیم وگے عرف سیف اللہ اور خالد فاروق ملک عرف طلحہ کے طور پر کی گئی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مارا گیا چھٹا عسکریت پسند غالباً غیر ملکی ہے۔ مارے گئے فوجی کی شناخت نذیر احمد کے طور پر کی گئی ہے اور وہ بھی مقامی کشمیری تھا۔ ایک اطلاع میں جس کی عہدیداروں نے تاحال تصدیق نہیں کی کہا گیا ہے کہ جھڑپ کے دوران چند عسکریت پسند جن میں حزب المجاہدین کا ایک اعلیٰ کمانڈر شامل تھا علاقے سے بحفافت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کی طرف سے سرینگر میں جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے عسکریت پسند حفاظتی دستوں پر کئے گئے حملوں اور شہریوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں ملوث تھے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اتوار کو پیش آنے والی جھڑپ میں نصف درجن عسکریت پسندوں کو ہلاک کرکے شوپیان میں سرگرم، بقول ان کے، ’’خونخوار دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے‘‘۔

حزب المجاہدین نے مارے گئے عسکریت پسندوں کو خراجِ عقیدت ادا کرتے ہوئے اس امر کا اعتراف تو کیا ہے کہ اسے ان ہلاکتوں سے ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس کے درجنوں جنگجو، اس کے بقول، ’’قابض افواج کا مقابلہ کرنے کے لئے علاقے میں موجود ہیں‘‘۔

جھڑپ کے فوراً بعد علاقے میں مظاہرین اور سرکاری دستوں کے درمیان شدید تصادم ہوئے۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ فوج اور دوسرے سرکاری دستوں نے پُرتشدد مظاہرین پر گولی چلادی جس سے ایک نوجوان نعمان اشرف بٹ ہلاک ہوگیا اور دو دوسرے شہری شدید طور پر زخمی ہوگئے۔ سرکاری دستوں نے مظاہرین کے خلاف اشک آور گیس اور چَھرے والی بندوقیں بھی استعمال کیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جن میں دو برس کی بچی حبہ بھی شامل ہے۔ جن افراد کے گہرے اور شدید زخم آگئے ہیں انہیں بہتر علاج کے لئے سرینگر کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

ان ہلاکتوں کے سوگ میں علاقے میں ایک عام ہڑتال کی جا رہی ہے۔ حکام نے بڑھتے ہوئے تناؤ اور تشدد کے پھیلنے کے خدشے کے پیشِ نظر حفظِ ماتقدم کے طور پر وادئ کشمیر میں ٹرین سروسز معطل کردی ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع میں انٹر نیٹ سہولیات روک دی گئی ہیں۔

اتوار ہی کو سرینگر کے مضافات میں واقع علاقے کھریو میں حفاظتی دستوں نے ایک مختصر جھڑپ میں عسکری تنظیم جیشِ محمد کے ایک رکن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے گزشتہ تین دن کے دوران ہونے والی 17 ہلاکتوں کے سوگ میں اور ان پر احتجاج کرنے کے لئے پیر کو ریاست میں عام ہڑتال کی اپیل جاری کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG