رسائی کے لنکس

چین اور بھارت کے فوجیوں میں جھڑپ، 11 اہلکار زخمی


فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت اور چین کے فوجیوں میں سرحد پر پہرا داری کرتے ہوئے جھڑپ ہوئی ہے جس میں مجموعی طور پر گیارہ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بھارت کی شمال مغربی ریاست سکم کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ کی تصدیق بھارتی وزارت دفاع نے کی ہے۔

دونوں ممالک کی جانب سے ایسے واقعات کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کے مطابق دونوں ممالک کے فوجیوں کے جارحانہ رویے کی وجہ سے اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ تاہم مقامی سطح پر حکام کے مذاکرات اور گفت و شنید سے معاملہ حل کر لیا گیا۔

بھارت کے اخبار 'ہندوستان ٹائمز' نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جھڑپ میں چار بھارتی فوجی جب کہ سات چینی اہلکار زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے میں مجموعی طور پر 150 فوجی آمنے سامنے تھے۔ دونوں جانب کے اہلکار دھکم پیل اور ہاتھاپائی میں زخمی ہوئے۔

بھارت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ واقعہ سکم کے سرحدی علاقے ناکولا میں پیش آیا تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس جھڑپ کا آغاز کیسے ہوا۔

وزارت دفاع کی جانب سے یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اہلکاروں کے زخموں کی نوعیت کیا ہے یا وہ کیسے زخمی ہوئے۔

چین کی وزارت دفاع کی جانب سے واقعے پر فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

دونوں ممالک میں سرحد کی حد بندی کے حوالے سے شدید عدم اعتماد موجود ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک میں 1962 میں ایک مختصر جنگ بھی ہو چکی ہے۔

چین اور بھارت نے اس سرحد پر سیکڑوں فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں۔ ڈوکلام یا ڈانگ لانگ کا یہ علاقہ اسٹریٹیجک طور پر انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔ اس علاقے میں بھارت، بھوٹان اور چین کی سرحدیں ملتی ہیں۔ یہاں پر چین نے ایک سڑک تعمیر کرنا شروع کی تھی جس پر بھارت نے شدید اعتراض کیا تھا۔

2017 میں چین نے دعویٰ کیا تھا کہ سکم کی سرحد کا معاملہ 1890 کے معاہدے میں طے کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کی بھارتی حکومتیں وقتاً فوقتاً اس معاہدے کی توثیق کر تی رہی ہیں۔ چین کے مطابق بھارت 1890 کے سرحدی سمجھوتے کی خلاف ورزی کر تا رہا ہے۔ جو برطانوی حکومت اور چین کے درمیان ہوا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان یہ سرحدی تنازع پہاڑی علاقے سکم سے متعلق ہے جس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 35 سو کلو میٹر سرحد مشترک ہے۔

بھارت اور چین کی افواج میں 2017 میں ہونے والی جھڑپ کے بعد نئی دہلی نے بیجنگ کو خبردار کیا تھا کہ وہ مشترکہ سرحد کے قریب سٹرک تعمیر نہ کرے کیونکہ یہ سیکیورٹی کے نکتہ نظر سے سنگین معاملہ ہے۔

بعد ازاں اگست 2017 میں بھارت اور چین میں مشرقی ہمالیائی خطے میں کئی دہائیوں سے جاری سرحدی تنازعے کے سلسلے میں معاہدہ طے ہوا۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں کے نتیجے میں طے پایا۔ معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان محاذ آرائی کی کیفیت ختم کرتے ہوئے اُنہیں واپس بلانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چینی فوجی علاقے کا گشت جاری رکھیں گے۔ چین سرحدی تاریخ کے ضابطوں کے مطابق علاقے میں اپنی حاکمیت کے تحفظ کی خاطر اقدامات جاری رکھے گا۔

یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا تھا جب بھارتی فوجیوں نے چین کی جانب سے سڑک تعمیر کرنے کے اقدام کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ علاقہ چین اور بھوٹان کے درمیان بھی متنازع رہا ہے۔ اس علاقے پر چینی فوجیوں کے کنٹرول سے خدشہ تھا کہ چین کو اُس حساس پٹی تک رسائی حاصل ہو جائے گی جو بھارت کو اُس کے مشرقی علاقوں سے جوڑتی ہے۔ اس وجہ سے بھارت نے چین کی طرف سے مطالبے کے باوجود یہ علاقہ خالی کرنے سے انکار کیا تھا۔

چین نے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ اُس کے علاقے میں گھس آیا ہے تاہم بھارت کا اصرار تھا کہ یہ علاقہ بھوٹان اور چین کے درمیان متنازع ہے اور اُس نے اپنے چھوٹے ہمسائے کی مدد کے لیے مداخلت کی ہے۔

بھارت دونوں ممالک کی طرف سے فوجیوں کو واپس بلانے پر اصرار کرتا رہا تاہم چین کا کہنا تھا کہ بھارت یہ علاقہ فوری طور پر خالی کر دے۔

XS
SM
MD
LG