رسائی کے لنکس

logo-print

چین کی بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری، بھارتی سیکریٹری خارجہ کا دورۂ ڈھاکہ


بھارتی حکومت میں گزشتہ سال شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہونے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کے اطلاق کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں قدرے سرد مہری آ گئی ہے۔

بھارت کے سیکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا ایسے وقت میں بنگلہ دیش کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں جب بنگلہ دیش چین سے ایک ارب ڈالر قرض لینے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

ہرش وردھن شرنگلا نے وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کی اور سیکیورٹی سے متعلق باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

بھارت میں گزشتہ سال شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) منظور ہونے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے اطلاق کے اعلان کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں قدرے سرد مہری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ہرش وردھن شرنگلا کے چوں کہ شیخ حسینہ واجد سے اچھے تعلقات ہیں، اس لیے اس دورے کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق شیخ حسینہ واجد اور ہرش وردھن شرنگلا کی ملاقات مثبت رہی۔ دونوں نے باہمی تعلقات بالخصوص جاری منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے وزارتِ خارجہ کی سطح پر مشترکہ مشاورتی کمیشن کا ورچوئل اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ کرونا وائرس کی صورتِ حال اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے ملاقات میں روہنگیا پناہ گزینوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور ان کی میانمار جلد از جلد واپسی کی خواہش کا اعادہ کیا۔

کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے شیخ حسینہ نے گزشتہ چار ماہ کے دوران کسی غیر ملکی شخصیت سے ملاقات نہیں کی تھی۔

بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کی منظوری اور شہریت سے متعلق ملک گیر سروے کرانے کے اعلان پر بنگلہ دیش نے کہا تھا کہ سی اے اے اور این آر سی کا اس پر اثر پڑے گا۔ حالاں کہ نئی دہلی نے یقین دہانی کرانے کی کوشش کی تھی کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور ان کا بنگلہ دیش پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بنگلہ دیش نے گزشتہ سال سی اے اے کی منظوری کے بعد بھارت کے وزارتی سطح کے دورے منسوخ کر دیے تھے۔

وزیرِ اعظم نریندرا مودی شیخ مجیب الرحمٰن کے یومِ پیدائش کے حوالے سے تقریبات میں شرکت کے لیے ڈھاکہ جانے والے تھے لیکن وہاں ان کے دورے کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔ بعد ازاں یہ تقریبات ملتوی کر دی گئیں تھیں اور نریندر مودی کا دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش میں چین کی سرمایہ کاری بھی باہمی تعلقات کو متاثر کرنے کا سبب ہے۔

نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے 'سینٹر فار چائنیز اسٹڈیز' سے وابستہ پروفیسر بی آر دیپک نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں چین کی سرمایہ کاری 12 ارب ڈالرز کے قریب ہے۔

ان کے مطابق دیگر چھوٹے ممالک میں بھی چین سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس سے بھارت کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق شیخ حسینہ کے بھارت سے اگرچہ اچھے تعلقات ہیں لیکن سی اے اے، این آر سی کے ساتھ ساتھ یہاں کے سیاست دانوں کے بیانات کی وجہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

ان کے بقول بھارت کے سیاست دان اپنے بیانات میں مبینہ بنگلہ دیشی دراندازوں کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ جب کہ وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مبینہ دراندازوں کو دیمک قرار دیا ہے۔

پروفیسر دیپک کا کہنا تھا کہ چین بنگلہ دیش میں چٹاگانگ پورٹ، پاکستان میں گوادر پورٹ اور میانمار میں چپ چُپ پورٹ بنا رہا ہے۔ ابھی تو چین کہہ رہا ہے کہ وہ جو بندرگاہیں بنا رہا ہے ان کا فوجی ٹھکانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن اگر چین اور ان ملکوں سے بھارت کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو چین وہاں فوجی ٹھکانے بھی بنا سکتا ہے۔

ہرش وردھن شرنگلا کے شیخ حسینہ سے اچھے تعلقات کے باعث یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ان کا یہ دورہ بنگلہ دیش کو مطمئن کرنے کے لیے ہو رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG