رسائی کے لنکس

logo-print

مظاہرین کا دباؤ یا کرونا وائرس؟ نریندر مودی کا دورۂ بنگلہ دیش ملتوی


سرکاری طور پر بھارتی وزیرِ اعظم کے دورے کی منسوخی کی وجہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا دورۂ بنگلہ دیشن ملتوی کر دیا گیا ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم نے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے 17 مارچ کو ڈھاکہ پہنچنا تھا۔

سرکاری طور پر دورے کی منسوخی کی وجہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔

البتہ اس دورے کے مخالفین اسے اپنے احتجاج کا دباؤ قرار دے رہے ہیں۔ مظاہرین کی بڑی تعداد نے گزشتہ دنوں دارالحکومت ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیے تھے۔

خیال رہے کہ شیخ مجیب الرحمن بنگلہ دیش کے بانی اور موجودہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے والد ہیں۔

حسینہ واجد کی حکومت نے شیخ مجیب الرحمن کے جنم دن کی مناسبت سے 17 مارچ کو ڈھاکہ میں بڑی ریلی کا بھی اہتمام کیا تھا، جس سے نریندر مودی کو بھی خطاب کرنا تھا۔

بنگلہ دیشی حکام نے اعلان کیا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن کی سالگرہ کی تقریبات اب محدود پیمانے پر منائی جائیں گی۔ جس میں شیخ حسینہ واجد اور اُن کی بہن شریک ہوں گی۔

نریندر مودی نے 17 مارچ کو ڈھاکہ پہنچنا تھا۔ (ٖفائل فوٹو)
نریندر مودی نے 17 مارچ کو ڈھاکہ پہنچنا تھا۔ (ٖفائل فوٹو)

بھارت کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکام نے پیر کو تقریب ملتوی ہونے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ ان کے بقول، بنگلہ دیش میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وہاں کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم کے خلاف بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ نئی دہلی فسادات میں مسلمانوں کی ہلاکت کے باعث نریندر مودی کو مدعو نہ کیا جائے۔

مختلف مسلمان تنظیموں نے 12 مارچ کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی بھی کال دی تھی اور بھارتی وزیرِ اعظم کی آمد پر ایئر پورٹ کے گھیراؤ کی بھی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

نئی دہلی فسادات پر بنگلہ دیش میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی فسادات پر بنگلہ دیش میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)

یاد رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں فروری کے آخر میں پھوٹنے والے فسادات کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر مسلمانوں کے گھر اور اُن کی املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ملکوں نے دہلی فسادات میں اقلیتوں کو پہنچنے والے نقصان پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

یہ فسادات بھارت میں شہریت بل کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران ہوئے تھے۔ مذکورہ بل کے تحت بھارتی پارلیمنٹ نے دسمبر 2019 میں ایک قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مذہبی جبر کے شکار افراد کو بھارت کی شہریت دینے کی منظوری دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG