رسائی کے لنکس

logo-print

فوج کے خلاف مقدمہ واپس نہ لینے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو برطرفی کی دھمکی


ب ایک کشمیری کی ہلاکت کے بعد برہم نوجوان سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

یوسف جمیل

بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سینیر لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے دھمکی دی ہے کہ اگر نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کی طرف سے بھارتی فوج کے ایک میجر اور اُس کے ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا قتل کا مقدمہ واپس نہیں لیا جاتا ہے تو وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بر طرف کیا جائے گا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، فوجی افسر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کئے جانے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے کہا کہ۔"یہ کیا بکواس ہے۔ اس حکومت کو برطرف کردو۔ محبوبہ مفتی سے کہہ دو اگر فوج کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر واپس نہیں لی جاتی ہے تو اس کی حکومت کو برطرف کیا جائے گا"۔

یاد رہے گزشتہ سنیچر کو بھارتی فوج نے شورش زدہ کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان کے ایک گاؤں گناؤ پورہ میں پتھراؤ کرنے والے ایک ہجوم پر گولی چلائی تھی جس کے نتیجے میں دو نوجوان ہلاک اور نو دوسرے شہری زخمی ہوئے تھے۔ بُدھ کے روز مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی جب سری نگر کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج زخمیوں میں سے ایک 19 سالہ رئیس احمد گنائی زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔

نوجوان کے مرنے کی خبر جب شوپیان پہنچی تو وہاں اور ہمسایہ ضلع پلوامہ کے کئی علاقوں میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے جن کے دوران بعض مقامات پر تشدد بھڑک اُٹھا۔ شوپیان اور پلوامہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل ہڑتال ہے-فائرنگ کے اس واقعے پر جسے مقامی لوگوں نے طاقت کا بے تحاشا اور غیر ضروری استعمال قرار دیا ہے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں شديد غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور اتوار کو اس کے خلاف ایک عام ہڑتال کی گئی تھی۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے اس واقعے میں ملوث بھارتی فوج کی 10 گھڑوال رجمنٹ کے میجر ادیتیہ اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ مقدمہ تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت شوپیان کے ایک پولیس تھانے میں درج کیا گیا ہے-

لیکن پولیس کے اس اقدام نے ایک نئے سیاسی تنازعے کو جنم دیا ہے۔ بی جے پی اور ہم خیال سیاسی جماعتوں کی طرف سے وزیرِ اعلیٰ پر فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ واپس لینے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے حصے میں بھی وزیرِ اعلیٰ شديد نکتہ چینی کا ہدف بنی ہوئی ہیں۔ لیکن وزیرِ اعلیٰ نے پیر کو ریاستی اسمبلی میں مقدمے کو منطقی انجام تک لے جانے کے عہدکا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا – "اس ایک ایف آئی آر سے فوج کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ فوج میں بھی کالی بھیڑیں ہو سکتی ہیں"۔

ادھر بدھ کو فوج نے شوپیان کے اسی تھانے میں جہاں پولیس نے میجر ادیتیہ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی ایک جوابی ایف آئی آر درج کرائی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اس کے کانوائے پر سنگبازوں نے زور دار حملہ کرکے نہ صرف کئی گاڑیوں کو شديد نقصان پہنچایا تھا بلکہ ایک جونیئر کمشنڈ افسر کو مار مار کر ہلاک کرنے اور اُس کا ہتھیار چھیننے کی کوششیں بھی کی تھیں جس کے بعد فوج نے مجبورا" اپنے بچاؤ میں فائرنگ کی۔

بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل دیوراج انبو کے کہا ہے کہ فوج نے اپنی جانب سے واقعے کی تحقیقات کی ہے جس کے دوران پتہ چلا کہ میجر ادیتیہ نے کوئی غلط حرکت نہیں کی بلکہ فوج نے اپنے دفاع میں اور سرکاری املاک کو نقصان سے بچانےکی غرض سے گولی چلائی تھی۔

انہوں نے پولیس کی طرف سے میجر کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کئے جانے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں دائر کئے جانے والی ایف آئی آر میں عمومی طور پر کسی شخص کو اس کا نام لے کر ملزم نہیں دکھایا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG