رسائی کے لنکس

logo-print

’گھر لوٹ آؤ‘ نوجوان بیٹے سے والدہ کی اپیل


عسکریت پسندوں میں شامل ہونے والے کشمیری نوجوان فہد کی والدہ۔

یوسف جمیل

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین دہائیوں سے جاری شورش میں پہلی مرتبہ ایک والدہ نے بدھ کے روز دارالحکومت سری نگر میں واقع ذرائع ابلاغ کے مرکز مشتاق پریس اینکلیو میں پہنچ کر رپورٹروں اور کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر گڑگڑاتے ہوئے اپنے نو عمر بیٹے سے یہ اپیل کی کہ وہ گھر لوٹ آئے۔

سری نگر کے عقل میر خان یار علاقے سے تعلق رکھنے والی خاتونِ خانہ میمونہ مشتاق نے کہا۔’ہمارا مکان ستمبر 2014 کے تباہ کُن سیلاب میں بچ گیا تھا لیکن یہ سیلاب میرے پورے گھر کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔ میری پوری كائنات لُٹ جائے گی‘۔

میمونہ کا 18 سالہ بیٹا فہد مشتاق گزشتہ جمعہ کو گھر سے یہ کہہ کر نکلا تھا کہ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ چند روز گزانے کے بعد گھر لوٹے گا۔ اُس کی والدہ نے کہا کہ اُس نے بیٹے کو اس لیے جانے دیا کہ وہ دسویں جماعت کے امتحان میں ناکامی کے بعد گُم سُم رہنے لگا تھا اور یوں بھی وہ مذہب کی طرف زیادہ مائل تھا اور اس سے پہلے بھی ایک آدھ بار تبلیغی جماعت کے ساتھ گیا تھا۔

میمونہ نے کہا ۔ ’ لیکن اس بار اُس نے اپنے ماں سے جھوٹ بولا اور ایسا اس سے پہلی مرتبہ کیا۔‘

وعدے کے مطابق فہد کو پیر کے روز گھر لوٹنا تھا۔ لیکن وہ نہیں لوٹا۔ اگلے دن اس کی والدہ اور دوسرے افرادِ خانہ یہ سن کر سکتے میں آگیے کہ شوشل میڈیا میں فہد کی ایک ایسی تصویر ڈالی گئی ہے جس میں اسے ایک اے کے 47 بندوق ہاتھوں میں تھامے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے نیچے درج عبارت کے مطابق اس نے عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

میمونہ نے کہا ۔’ میرے وہم وگمان میں نہیں تھا کی وہ ایسا کرے گا۔ میں اس سے گھر لوٹنے کی بھیک مانگتی ہوں۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو میں مر جاؤں گی‘۔

یہ کہ کر میمونہ رونے لگیں اور اُن کے ساتھ آئی ہوئی اُن کے محلے کی چند اور خواتین نے انہیں دلاسہ دینے کو کوشش کی۔

فہد کے خاندان کے افراد اس کی گھر واپسی کی اپیل کر رہے ہیں۔
فہد کے خاندان کے افراد اس کی گھر واپسی کی اپیل کر رہے ہیں۔

میمونہ نے کہا کہ عسکری تنظیموں میں شامل دوسرے نوجوان بھی ان کے بیٹے جیسے ہیں اور وہ ان کا احترام کرتی ہیں۔ ’ لیکن فہد کم عمر ہے۔ خدارا اُسے واپس بھیج دو۔وہ نہیں لوٹتا ہے تو میں بھی زندہ نہیں رہوں گی‘۔

فہد کے چچا ظہور احمد وانی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ کچھ عرصے سے پریشان نظر آ رہا تھا۔ وانی نے کہا ۔’ مجھے یہ سمجھ میں آ رہا تھا کہ اُس کے اندر کچھ پک رہا ہے۔ اُسے پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن مجھے یہ اندازہ با لکل نہیں تھا کہ وہ یہ انتہائی قدم اٹھائے گا اور ایک ایسے راستےپر گامزن ہو گا جو پُر خطر ہے اور جس پر چلنے والوں کو جلد ہی موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہر روز ہمارے بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں‘۔

یہ واقعہ سرکردہ کشمیری آزادی پسند راہنما محمد اشرف صحرائی کے 26 سالہ بیٹے جنید اشرف خان کے کم و بیش اسی طرح کی صورت حال میں کشمیر میں سرگرم سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب الماہدین میں شامل ہونے کے صرف چند دن بعد پیش آیا ہے۔ جنید کے عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہونے کا اعلان بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے اچانک لاپتہ ہونے کے فوراً بعد کیا گیا تھا۔جس پربھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ شیش پال وید نے صحرائی پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے اور اس جیسےنوجوانوں سے جنہوں نے بندوق تھام لی ہے اپیل کریں کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کریں۔ انہوں نے کہا تھا ۔’ صحرائی صاحب کمان سنبھالے ہوئے ہیں لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے اوراُس جیسے نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ کریں اور سلسلہ جنبانی کے لیے راہ ہموار کریں تاکہ کشمیری نوجوان کو تشدد کی نذر ہونے سے بچایا جا سکے‘۔

74 سالہ صحرائی نے جنہیں حال ہی میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری تحریکِ مزاحمت کےسرپرست سید علی شاہ نے اپنی جگہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری تنظیم تحریکِ حریت کا چیئرمین مقرر کیا ہے پولیس سربراہ کی اس درخواست کو نظر انداز کردیا ہے-

پولیس عہدیدار وں کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے کا رجحان برابر جاری ہے جس پر انہیں فکر وتشویش ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کی اس عرصے کے دوران اڑھائی سو کے قریب عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جن میں مقامی اور غیر ملکی دونوں شامل تھے۔

ایک اور خبر کے مطابق ضلع راجوری کے سُندر بنی علاقے میں بھارتی حفاظتی دستوں کے ساتھ بُدھ کی صبح سے جاری ایک جھڑپ میں کم سے کم ایک مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG