رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کےخلاف طلبہ کے مظاہرے


سری نگر میں نوجوان پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور دوسرے حفاظتی اہل کاروں نے صبر و تحمل سےکام لیتے ہوئے طاقت کا کم سے کم استعمال کیا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حفاظتی دستوں کی کارروائیوں میں 13 مشتبہ عسکریت پسندوں اور 5 شہریوں کی ہلاکت کے خلاف چار دن تک جاری رہنے والی احتجاجی ہڑتالوں اور عوامی مظاہروں کے بعد جمرات کو بازار کھل گئے۔ ریل اوردوسری پبلک ٹرانسپورٹ سروسز بحال ہو گئیں اور چند اضلاع کو چھوڑ کر وادئ کشمیر کے تعلیمی ادارے بھی کھول دیے گئے۔

لیکن تعلیمی اداروں کے کھلتے ہی کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ اور طالبات نے کلاسوں کی بجائے سڑکوں کا رُخ کیا اور بھارت سے آزادی کے مطالبے کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کرنے لگے۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے فوری طور پر حرکت میں آکر ان کا راستہ روکا اور اشک آور گیس سے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے بعد طالب علموں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گیئں۔

عہدیدار وں نے بتایا کہ مظاہروں اور جھڑپوں کا یہ سلسلہ سری نگر، شوپیان، پلوامہ اور ضلع کپورہ تک پھیل گیا۔

سری نگر کے ایک کالج کے باہر طلبہ نے بھارتی وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کی ایک چوکی میں آگ لگا دی- کشمیر یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کے بعد کیمپس کے اندر مظاہرے کیے ۔ انہوں نے’ کشمیری نوجوانوں کا قتلِ عام بند کردو‘ کے بینر اٹھا رکھے تھے اور ہم آزادی چاہتے ہیں، بھارت ہوش کے ناخن لو اور کشمیر ہمارا چھوڑ دو کے نعرے لگا رہے تھے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں طالب علم احتجاج کر رہے ہیں۔
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:08 0:00

پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور دوسرے حفاظتی اہل کاروں نے صبر و تحمل سےکام لیتے ہوئے طاقت کا کم سے کم استعمال کیا۔

اس دوران صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی شمالی قصبے کنگن پہنچیں جہاں پیر کے روز ہونے والے مظاہروں میں پولیس نے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر نزدیک سے گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ نوجوان بعد میں اسپتال میں ہلاک ہو گیا ۔ وزیرِ اعلیٰ نے نوجوان کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے مرتکب پولیس اہل کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ کی کنگن سے روانگی کے فوراً بعد وہاں بھی لوگوں نے حکومت اور بھارت کے خلاف مظاہرے کیے۔

واضح رہے بھارتی فوج اور دوسرے حفاظتی دستوں نے تین الگ الگ مشترکہ کارروائیوں کے دوران اتوار یکم اپریل کو جنوبی اضلاع شوپیان اور اننت ناگ میں جن 13 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا تھا ، وہ تمام مقامی باشندے تھے۔ جب کہ طرفین کے درمیان ہ جھڑپوں میں تین بھارتی فوجی بھی ہلاک اور چار زخمی ہو گئے تھے۔

جھڑپوں کے دوران مقامی مظاہرین پر فوج کی فائرنگ سے چار شہری ہلاک ہوئے تھے۔ جس کے بعد بھارت مخالف مظاہروں اور اور سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کا سلسلہ چار روز تک جاری رہا جن میں ڈیڑھ سو سے زائد شہری اور تین درجن کے قریب حفاظتی اہل کار زخمی ہوگئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG