رسائی کے لنکس

،پاکستان سے مذاکرات کی بحالی، فیصلہ سیاسی قیادت کے پاس،


بھارتی فوجی دیلی کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک مہم کے دوران۔ فائل فوٹو

جنرل راوت نے کہا کہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال بہتر ہورہی ہے اور وادئ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ  اُن کے بقول ممکنہ طور پر دہشت گردوں اور اُن کے حامیوں کی مایوسی کو اُبھارتا ہے۔

یوسف جمیل

بھارتی بّری فوج کے سربراہ جنرل بِپِن راوت نے سنیچر کو بتایا کہ پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ سیاسی سطح پر کیا جاسکتا ہے اور مسلح افواج وہ کام کرتی رہیں گی جو ان کے ذمے ہے۔

جنرل راوت نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں منعقدہ ایک فوجی تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے۔

ایک اور سوال کے جواب میں جنرل راوت نے الزام لگایا کہ پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ اب بھی کام کر رہے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا گزشتہ سال پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ بھارتی سرجیکل سٹرائکس کے بعد صورتِ حال میں تبدیل ہوئی ہے تو جنرل راوت نے کہا –" مجھے نہیں معلوم آپ سے کس نے کہا ہے کہ سرحد پار موجود تربیتی کیمپ اب بند ہوگئے ہیں۔ تربیتی کیمپ وہاں پہلے بھی موجور تھے اور اب بھی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔"

جنرل راوت نے کہا کہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال بہتر ہورہی ہے اور وادئ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اُن کے بقول ممکنہ طور پر دہشت گردوں اور اُن کے حامیوں کی مایوسی کو اُبھارتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں بنیاد پرستی جڑ پکڑ رہی ہے – یہ دراصل ایک عالمی رجحان ہے ۔ ہم اس کے ساتھ سنجید گی کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔ جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فوج میں بھرتی ہونے کے لئے آگے آرہی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ عسکری محاذ پر نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ اُن کے اپنے الفاظ میں- "کچھ خود پسند سوشل میڈیا سے متاثر ہوکر دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں اور ہم ان کا کام تمام کرتے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان میں سے کئی ایک سامنے آکر حفاظتی دستوں اور پولیس کے آگے ہتھیار ڈال رہے ہیں"

اسی دوران سنیچر کو خواتین اور لڑکیوں کی نامعلوم حملہ آوروں کے طرف سے چوٹیاں کاٹ ڈالنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف وادئ کشمیر میں ایک اور عام ہڑتال کی گئی- ہڑتال کے لئے اپیل استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والے قائدین کے ایک اتحاد نے کی تھی جس کا الزام ہے کہ ان واقعات کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔حکومتی عہدیدار پہلے ہی اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کرچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق اب تک چوٹیاں کاٹنے کے ڈیڑھ سو سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں جن کی تحقیقات ہورہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG