رسائی کے لنکس

logo-print

جو کام 70 سال میں نہ ہو سکا وہ 70 دن میں کر دیا: نریندر مودی


فائل فوٹو

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھارت کے 73 ویں یوم آزادی پر اپنے خطاب میں دفعہ 370 اور 35-اے کے خاتمے کو اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو کام 70 برس میں نہیں ہوا تھا اِس حکومت نے 70 سے بھی کم دن میں کر دکھایا ہے۔

انہوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی مخالفت کرنے پر کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یوم آزادی پر بھارت کے تاریخی لال قلعے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دفعہ 370 اتنی ہی اہم تھی تو اسے 70 برس میں مستقل کیوں نہیں کیا گیا، عارضی کیوں بنائے رکھا۔

بھارت کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کی وجہ سے علیحدگی پسندی، اقربا پروری اور بدعنوانی کو فروغ ملا۔ خواتین، بچوں، دِلت اور صفائی کرنے والے ملازمین کو ان کے انسانی و شہری حقوق نہیں ملے۔ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ لیکن اب اس کے خاتمے سے انہیں انصاف ملا ہے اور ایک ملک ایک آئین کے ہدف کو پورا کر لیا گیا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم نے طلاق ثلاثہ مخالف قانون کو بھی اپنی حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔

نریندر مودی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تینوں مسلح افواج کے لیے چیف آف ڈیفنس کا ایک منصب بنایا جائے گا جس کے تحت تینوں افواج کے آپریشن ایک دوسرے سے مربوط ہوں گے۔

دلچسپ بات یہ کہ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں بھارتی وزیرِ اعظم نے ایک بار بھی پاکستان کا نام نہیں لیا۔

'کشمیری عوام کی شناخت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی'

علاوہ ازیں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے سری نگر میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حکومت کے اقدام سے کشمیری عوام کی شناخت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی، بلکہ ان کے لیے ترقی کے دروازے کھلیں گے اور وہ اپنی زبان و ثقافت کو فروغ دے سکیں گے۔

سینئر کانگریس رہنما پی چدم برم نے کشمیر کے سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل کو نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حراست میں لے کر واپس سری نگر بھیجنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بھارتی سپوت کو اس کی آزادی سے محروم کیا جا رہا ہے۔

شاہ فیصل بدھ کے روز سری نگر سے نئی دہلی پہنچے تھے جہاں سے انہیں غیر ملکی دورے پر جانا تھا۔

چدم برم نے کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کی گرفتاری کی مذمت بھی کی۔

سینئر کانگریس رہنما سلمان خورشید نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم مودی یہ باور نہ کرائیں کہ دفعہ 370 ملک مخالف قانون تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ لوگ آئین ساز اسمبلی میں اس کی حمایت نہ کرتے جنہوں نے کانگریس سے الگ ہو کر بی جے پی کی حمایت کی۔

دوسری جانب بھارت کے یومِ آزادی کو پاکستان میں یومِ سیاہ کے طور پر منایا گیا اور پاکستان کے وزیرِ اعظم، پاکستانی فوج کے ترجمان سمیت دیگر حکام نے یومِ سیاہ کے اظہار کے طور پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تصاویر کو سیاہ رنگ سے بدل دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG