رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی کا کوئی جواز نہیں: بھارتی سپریم کورٹ


فائل فوٹو

بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش اظہار رائے کے خلاف اور غیر ضروری اقدام ہے۔

عدالت نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر وادی میں عائد کی جانے والی پابندیوں کا از سرِ نو جائزہ لے۔

جمعے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور کشمیر میں مواصلاتی اور انٹرنیٹ پابندیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

بھارتی سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس این وی رامانا، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوئی شامل تھے۔

عدالت نے حکم دیا کہ جموں و کشمیر کے بلدیاتی اداروں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی ویب سائٹس کو فوری طور پر کھولا جائے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے اختلاف کرنے کی بنیاد پر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنا درست نہیں۔ (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے اختلاف کرنے کی بنیاد پر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنا درست نہیں۔ (فائل فوٹو)

عدالت نے ریمارکس دیے کہ "آرٹیکل 19 کی شق ایک کے تحت انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت آزادی اظہار رائے کے زمرے میں آتی ہے اور اسی آرٹیکل کی شق دو کے تحت ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ہی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔"

سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے اختلاف کرنے کی بنیاد پر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنا درست نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ کشمیر نے بہت تشدد دیکھا ہے لہذٰا عدالت بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

آرٹیکل 370 کے خلاف درخواست گزاروں میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد بھی شامل تھے۔ عدالتی فیصلے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ "بھارت کے عوام اس عدالتی فیصلے کے منتظر تھے۔ آج کا دن تاریخی ہے۔"

بھارتی حکومت نے 21 نومبر کو عدالت میں انٹرنیٹ اور دیگر پابندیوں کا دفاع کیا تھا۔ بھارتی حکومت کا یہ مؤقف تھا کہ حفظ ماتقدم کے طور پر یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ کشمیر نے بہت تشدد دیکھا ہے لہذٰا عدالت بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ (فائل فوٹو)
عدالت نے کہا کہ کشمیر نے بہت تشدد دیکھا ہے لہذٰا عدالت بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ بھارت کی حکومت نے پانچ اگست کو کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی۔ جس کے بعد جموں و کشمیر میں مواصلاتی رابطوں کے علاوہ انٹر نیٹ پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیموں، کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کے علاوہ متعدد افراد نے ان پابندیوں کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ میں متفرق درخواستیں دائر کی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG