رسائی کے لنکس

logo-print

اقوامِ متحدہ کا بھارتی کشمیر میں جاری پابندیوں پر اظہارِ تشویش


انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک پینل نے آج منگل کے روز ایک بیان میں بھارتی حکومت کی طرف سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں جاری پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق بحال کرے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق پینل کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارتی حکومت یورپین یونین کے پارلیمانی ارکان پر مشتمل وفد کو وادی کشمیر کے دورے پر لے جا رہی ہے۔

پینل کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وہاں شدید نوعیت کی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کے نقل و حمل اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی رابطوں پر عائد پابندیوں کے بارے میں شکایات نمٹانے کے سلسلے میں سست روی کا مظاہرہ کیا ہے اور یوں کشمیریوں کے مصائب بدستور جاری ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، پینل کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارتی حکومت نے جموں اور لداخ کے کچھ علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو کی پابندیاں ہٹا لی تھیں، یہ پابندیاں وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بدستور موجود ہیں جن کے باعث لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔

پینل نے وادی میں اکادکا احتجاجی مظاہروں کے دوران شدید طاقت کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں چھ شہریوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق پینل نے مزید کہا ہے کہ اس بارے میں دائر ہونے والے مقدمے نمٹانے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے بھی سست روی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پینل نے کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ سمیت سیکڑوں سیاسی رہنماؤں کو مسلسل زیر حراست رکھے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ جموں اور کشمیر میں صورت حال رفتہ رفتہ معمول پر آ رہی ہے اور پابندیاں بتدریج نرم کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG